ودیشا کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱
ٹرین میں داخل ہو کر میں اپنی برتھ پر سو گیا۔ قدیم زمانہ میں آدمی کو جاگ کر سفر کرنا پڑتا تھا آج آدمی سوتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا سفر بھی تیز رفتاری کے ساتھ طے ہوتا رہتا ہے۔ جانور اپنے پاؤں سے چلتے ہیں۔ چڑیاں اپنے بازوؤں سے اڑتی ہیں۔ مگر انسان کے ساتھ کرنا بنی آدم کا معاملہ کیا گیا ہے۔ پہلے زمانہ میں انسان جانوروں کی پیٹھ پر سواری کرتا تھا۔ اب وہ مشینی پہیہ یا مشینی بازو کے اوپر سفر کرتا ہے۔
۱۲ جنوری کی صبح کو نیند کھلی تو و دیشا کا ریلوے اسٹیشن قریب آ چکا تھا۔ پلیٹ فارم پر اترتے ہی کانفرنس کے منتظمین مل گئے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر شہر آیا۔ یہاں میرا قیام سٹرپھا کے مکان پر تھا۔
و دیشا ایک نہایت قدیم تاریخی شہر ہے۔ وہ دہلی سے ساڑھے چھ سو کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ودیشاا کی قدامت کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قدیم سنسکرت کتابوں، مہا بھارت اور رامائن میں اس کا حوالہ پایا جاتا ہے۔ مور یہ اور گپتا راج کے زمانہ میں وہ ایک زبردست مذہبی، اقتصادی اور سیاسی مرکز تھا۔ ۱۲۳۵ میں وہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ ۱۹۴۷ کے بعد وہ ریاست مدھیہ پردیش کا ایک حصہ ہے۔
ودیش میں کثرت سے بدھزم کے آثار پائے جاتے ہیں۔ کچھ بدھسٹ اسٹوپا یہاں ایسے ہیں جن کی تاریخ دوسری صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ ودیشا کے آس پاس کے علاقوں میں بھی دور تک قدیم آثار کھنڈر کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔
ودیشا کے یہ آثار گویا اپنی خاموش زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی کا حال خواہ کتنا ہی شاندار ہو، اس کا مستقبل بہر حال کھنڈر ہو کر رہتا ہے۔ اس میں استثناء صرف ان لوگوں کا ہے جو فانی چیزوں سے بلند سطح پر اپنے لئے زندگی کا راز دریافت کر لیں۔
رہائش گاہ پر کئی تعلیم یافتہ ہندو جمع ہو گئے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ لوگ زیادہ تر اسلام کے بارہ میں سوالات کرتے رہے۔
ایک صاحب نے شاہ بانو بیگم کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں اگر ایساحکم ہے تو وہ بڑی نا انصافی کی بات ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے کر اسے گھر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues