مسلم دھارمک نیتاؤں کا اندولن اور تیز
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱
رڑ کا ایک مندر ہوگا مگر اب یہاں خالص جدید طرز کی ایک شاندار عمارت بنائی گئی ہے۔ وہاں گیتا کی تعلیم کا انتظام ہے۔ اور اسی کے ساتھ کئی ہال ہیں۔ ایک ہال میں ہمارے کانفرنس کی کارروائی ہوئی۔
اس مضمون میں وہاں کی تمام کارروائیوں کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ باتوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ ملکی حالات پر یہ سمینار چار دن تک جاری رہا۔ ہر ایک نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک روز میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو راشٹر عام حالات میں ہندوستان میں قائم نہیں ہو سکتا۔ آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ محض اپنی طاقت سے اس ملک میں ہندو راشٹر قائم کر دیں۔
ہندوستان میں ہندو راشٹر کا قیام تمام تر مسلمانوں کے رویہ پر منحصر ہے۔ اگر مسلمان خاموشی کارویہ اختیار کر لیں، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا آر ایس ایس کی مخالفت نہ کریں تو ہندو راشٹر کے قیام کی تحریک کی ناکامی یقینی ہے۔ ہندو راشٹر صرف اس وقت قائم ہو سکے گا جب کہ اس کے علمبرداروں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہو جائے کہ مسلمان اپنے نادان لیڈروں کی غلط رہنمائی میں پڑ کر اس کے خلاف دھوم مچانا شروع کر دیں۔
بندر ابن کے اس سمینار میں مجھے اس حقیقت کا علم ہوا کہ ہندوؤں میں بھی ایک اعتبار سے وہی صورت حال ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں میں آج جو لوگ مختلف سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں کام کر رہے ہیں، ان کی اکثریت انقلابی اسلام سے متاثر نظر آتی ہے۔ اس کا سبب بہت زیادہ نظر آتی نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اسکول یا کالج کی تعلیم کے زمانہ میں ان لوگوں نے ان اسلامی مفکرین کی پر جوش کتابیں پڑھیں جن میں اسلام کو انقلابی انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ پختگی سے پہلے کی اس عمر میں انھیں اسلام کی یہ تشریح اچھی لگی۔ اس کا اثر آج تک باقی ہے۔ عملاً ان میں سے ہر ایک کا مذہب مادی انٹرسٹ ہے۔ مگر ٹیبل ٹاک کے لئے وہ اپنے سابقہ تاثر کے تحت رستو را سلام کی انقلابی تشریح کو اختیار کئے ہوئے ہے۔
یہی معاملہ ہندوؤں کا ہے۔ آر ایس ایس اور اس طرح کی دوسری تحریکوں نے "ہندو انڈیا" کا جو رومانی تصور دیا وہ بہت سے ہندو نوجوانوں کو پسند آگیا۔ بعد کو اگر چہ وہ عام لوگوں کی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues