Al-Risala · November 1993 · page 32

۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲

دنیا کے کمانے میں مشغول ہو گئے۔ تاہم ایک دل پسند تاثر کے طور پر ہندو احیاء کا آئیڈیا بھی ان کے ذہن میں موجود رہا، جو لکھنے اور بولنے کی سطح پر حسب موقع ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ بس اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ انھیں میں سے ایک مسٹر ارن شوری ہیں۔

اس سیمینار کے شرکا میں اگر چہ اکثریت آرایس ایس کے ذہن کے لوگوں کی تھی۔ تاہم یہاں فکری غلبہ کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ ہر ایک کو آزادی تھی کہ وہ کھلے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرے، مقررین کی کچھ باتیں یہاں مختصر طور پر نقل کی جاتی ہیں۔

سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ لوگوں میں (fixed notions) بنے ہوئے ہیں۔ لوگ پہلے ہی سے یہ مانے ہوئے رہتے ہیں کہ مسلمان ہے تو ایسا ہو گا اور ہندو ہے تو ایسا ہو گا۔ ہمیں سوچنے کا یہ طریقہ بدلنا ہو گا ورنہ نیشن بلڈنگ کا کام نہیں ہو سکتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش کے حالات اگر چہ بہت خراب ہیں۔ مگر حالات کا کچھ پازیٹو پہلو بھی ہے۔ مثلاً بابری مسجد کو ڈھایا گیا تو میں دیکھتا ہوں کہ اس کی چنتا جتنی مسلمان کو ہے اس سے زیادہ چنتا ہندوؤں کو ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آج یہ حالت ہے کہ دیش کا ایجنڈا پولیٹیکل لوگ طے کرتے ہیں۔ یہ ایک در بھاگیہ کی بات ہے۔ دیش کو کچھ لوگوں کے پولیٹیکل انٹرسٹ پر بھینٹ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دیش کو الٹے راستہ پر لے جایا جا رہا ہے۔ نان اشوکوا شو بنیا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف ہمیں اٹھنا ہوگا ورنہ دیش تباہ ہو جائے گا۔

ایک ہندو نوجوان نے کہا کہ مسلمان آج بھی پاکستان کی طرف اپنا دھیان لگائے ہوئے ہیں۔ اسی لئے جب کرکٹ میں پاکستان کے کھلاڑی جیتتے ہیں تو وہ یہاں خوشی مناتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے راج موہن گاندھی نے کہا کہ ان چیزوں کو آپ اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ یہ تو خود آپ کی ذہنی ناپختگی کا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں لندن میں ہائی کمشنر تھا۔ وہاں میں نے دیکھا ہے کہ میچ میں اگر ہندوستانی کھلاڑی اچھا گیند مارتا تو وہاں کے ہندوستانی تالیاں بجاتے اور اگر پاکستانی کھلاڑی اچھا کھیل دکھاتا تو پاکستانی لوگ تالیاں بجاتے اور انگریز جو وہاں ہوتے وہ کسی پر فد نہ ہوتے بلکہ دونوں پر سکما دیتے۔ یہی آپ کو بھی کرنا چاہئے۔

۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page