۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷
سامنے چائے کی ایک پیالی رکھ دی جاتی ہے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بندرابن کا یہ سمینار کتنا سادہ تھا اور اس کی کارروائی کتنے بے تکلفی کے انداز میں کی گئی۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ کیوں کہ سادگی میری فطرت ہے۔ میں ہر معاملہ میں سادگی کو پسند کرتا ہوں۔
ایک صاحب نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ مد اکیلا ہے، دیش مد ہے، یا دھرم مد ہے۔ دیش پہلے ہے یا دھرم پہلے ہے۔ دھرم کو کچھ لوگوں نے مڑا بنایا۔ اس کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا کہ خود دیش خطرہ میں پڑگیا۔ اس لئے اب اس کو ختم کرو۔ دیش کو مداہناؤ۔
ایک صاحب نے کہا کہ جس طرح انگریزوں کے اسٹیچو یہاں غلامی کی یادگار تھے۔ ان کو ہم نے ہٹایا۔ اسی طرح بابری مسجد جیسے ڈھانچے بھی مسلم غلامی کی یادگار ہیں۔ ان کو بھی توڑ کر ختم کرنا ہوگا۔ جب تک غلامی کی یہ یادگاریں کھڑی ہوئی ہیں، دیش میں شانتی آنے والی نہیں۔
ایک صاحب نے بابری مسجد ڈھانے کو عین درست بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ اس پر ہمارے لوگ معذرت کا انداز کیوں اختیار کرتے ہیں۔ اگر پندرہ اگست پر ہم کو کوئی شرم نہیں ہے تو ۶ دسمبر پر بھی ہم کو شرمنا نہیں چاہئے۔
اس سمینار میں ایک خاص تجربہ یہ ہوا کہ اگر مسلمان چپ رہیں تو خود ہند و لوگ ہم سے بہتر اور مؤثر انداز میں اس کا جواب دیں گے ۔ اس کا تجربہ بندرابن میں کئی بار ہوا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی مقرر نے مسلم دشمن تقریر کی ۔ میں چپ رہا۔ اس کے بعد کوئی ہندو اٹھا اور اس نے نہایت طاقت و رانداز میں اس کا جواب دیا، ایسا کہ اگر میں جواب دیتا تو شاید میں اتنا طاقت ور جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اودے پور کے کشور سنت (28271 Telephone) نے بڑی درد مندانہ تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ آج یہ لوگ ساری بات گاندھی کے نام پر کر رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہی گاندھی واد ہے۔ اس اندولن سے جو شکتی ابھری ہے وہ تو ہنسک شکتی ہے۔ پھر وہ گاندھی واد کیسے ہے۔ جب کہ گاندھی وادا ہنسا کا نام ہے۔ میں نے گاندھی کے زمانہ کو دیکھا ہے۔ مگر آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر مجھے اپنا جیون بالکل نرر تھک لگتا ہے۔ نفرت کی آگ آج و یا پک ہے۔ گاندھی کا دیش اب نہیں ہے۔ بالکل اندھ کار ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues