۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹
ایک صاحب نے غلطی کی تصحیح کے نظریہ پر سخت تنقید کی ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح مسجد ڈھانے کے عمل کو اگر ایک بار آپ جائز (legitimate) مان لیں تو پھر مسئلہ مسجد تک نہیں رہے گا ۔ وہ آگے تک جائے گا۔ بس اب ختم کرو ، یہ کہنے کی ہمت ہمارے اندر ہونی چاہئے۔ ورنہ آئندہ بات یہاں تک پہنچے گی کہ ایک آدمی آپ کے گھر پہنچے گا اور کہے گا کہ یہ زمین تمہارے دادا نے میرے دادا سے زبردستی لے لی تھی ، اب میں دوبارہ اس پر قبضہ کروں گا۔ اس کے بعد ہمارے سماج کا کیا حال ہو گا ۔ اس کو سوچئے ۔ اس طرح کے عمل سے ہنسا کو (legitimacy) ملتی ہے۔ ایک ہندو اسکالر نے اپنی تقریر کے دوران یہ واقعہ بتایا کہ گاندھی جی نے لکھا ہے کہ سیکنڈ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (۱۹۳۱) کے موقع پر گاندھی جی کی ملاقات علامہ اقبال سے لندن میں ہوئی۔ اقبال نے اپنا تعارف کراتے ہوئے گاندھی جی سے کہا : میں کشمیری پنڈت ہوں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں ہندو اور مسلمان دونوں عام طور پر اسی طرح اپنے پن کے انداز میں بات کرتے تھے۔ مگر اب "دو قومی نظریہ" کی مصنوعی تحریک کے نتیجہ میں دونوں طرف کا مزاج بدل گیا ہے ۔ اب اس طرح کی بول بولنے میں قومی عصبیت حائل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر مہیش شرما نو جوانی کی عمر سے آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ ایک روز گفتگو کے دوران میں نے کہا اس وقت قومی ایکتا لانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے ، وہ ٹالرنس ہے۔
انھوں نے کہا کہ گر وگو لوالکر ٹالرنس کے شبد کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کو صرف ٹالریٹ نہیں کرتے ، ہم تو دوسروں کا سواگت کرتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ۔ میں سچا تو تم بھی سچے۔
کئی لوگوں نے یہ بات کہی کہ دھرم سے متعلق جھگڑوں میں ہم کو زیادہ توجہ نہیں دینا چاہئے۔ زیادہ توجہ کے قابل دوسرے اشو ہیں ، مثلاً تعلیم ، اقتصادیات ، افراد کے اندر نیشنل کیریکٹر پیدا کرنا۔ وغیرہ ۔ آج سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ نئی نسل کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دیش کی ترقی میں اپنا صحیح رول ادا کر سکے۔
جن ستا کے پتر کار منسٹر رام بہادر رائے سب سے کم بولتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جب
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues