۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰
کبھی وہ بولتے ہیں تو لوگ بہت توجہ کے ساتھ ان کی بات سنتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو اہم سمجھتے ہیں۔ مگر کم بولنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مگر کم بولنے کے لئے تحمل کی طاقت درکار ہے، اور تحمل کی طاقت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ دیش میں ہنسا (تشدد) بہت بڑھ گیا ہے۔ ہم لوگ ہنسا کا رد و دہ اہنسا سے کریں گے، یہ طے کر کے یہاں سے ہمیں اٹھنا ہے۔
ہم لوگوں کو ہر طرح کے بھید بھاؤ سے اوپر اٹھنا ہے۔ انسان سب سے بڑھ کر ہے، یہ مان کر یہاں سے جانا ہے۔ انسان پہلے ہے اور دھرم اور پالی ٹیکس سب اس کے بعد ہے۔ مسٹر راج نرائن سنگھ (P.A.C) اعظم گڑھ میں پولیس افسر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو دیش کے پچھلے پرو رج کو اپنا پر ویج ماننا ہوگا۔ اس کے بنا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک صحیح اور باقی سب غلط ہیں تو ایسی حالت میں ایڈ جسٹمنٹ اور بھائی چارہ کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کی نظر میں ہند و سب کے سب کافر ہیں تو دونوں میں برابری کا تعلق کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے تمام عقیدوں کو (disown) کرنا ہو گا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے سمبندھ میں یہ ایک بہت پورن مدعا ہے۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ پاکستان اگر کرکٹ جیتے تو وہ یہاں لڈو بانٹتے ہیں، پھر ان کی دیش بھگتی پر کیسے نہ شبہ کیا جائے۔
ایک روز کانفرنس کے اجلاس میں ایک انتہا پسند ہندو نے بڑی گرما گرم تقریر کی۔ مسلم نقطہ نظر سے وہ کافی اشتعال انگیز تھی۔ میں خاموشی کے ساتھ تقریر سنتا رہا۔ اس کے بعد وقفہ ہوا تو میں کانفرنس ہال کے باہر نکلا۔ میں نے دیکھا باہر بالکل دوسرا منظر ہے۔ ہال کے باہر مقرر کی "اشتعال انگیزی" کا کوئی اثر نہ تھا۔
یہاں اب بھی درخت اسی طرح ہریالی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ آسمان کی وسعتیں بدستور اپنی جگہ قائم تھیں۔ سورج اپنی روایتی شان کے ساتھ اب بھی اپنی روشنی پھیلائے ہوئے تھا چڑیوں کی آوازیں اس طرح سنائی دے رہی تھیں جیسے کہ انھیں ان باتوں کی کوئی پروا ہی نہ ہو۔ دوسری طرف مقامی باز ار میں دیکھا تو یہاں بھی لوگ اسی طرح لین دین میں مشغول تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues