Al-Risala · November 1993 · page 42

۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲

ے کہلوانا چاہتے ہیں کہ میں ہندو ہوں۔

۶ دسمبر کو اجودھیا میں جو ہوا اس سے سارے دیش میں الگاواد بڑھے گا۔ اس میں شک یں۔ پھر دیش کہاں جائے گا۔ اگر اجودھیا پر بات نہیں رکتی تو اس کے بعد کیا ہو جائے گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اب کیا کرنا چاہئے، اس کے لئے میرے پاس کوئی سجھاؤ نہیں ہے۔ لیکن اگر بات ایودھیا پر رک جائے تو نئی شروعات ہو سکتی ہے۔ وہ جو مانگ ہے کاشی اور متھرا کی، اسے تو چھوڑ دینا چاہئے ۔ اگر ہم اس کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر تو مجھ کو اندھکار ہی اندھکار دکھائی دیتا ہے۔ برند را بن ہندوؤں کا مقدس شہر ہے۔ یہاں تقریباً پانچ ہزار مندر ہیں، کئی سو کی تعداد میں آشر م ہیں۔ یہاں ہمارا قیام گیتا آشرم میں نہ تھا۔ اس نام سے تقریباً دو درجن آشرم مختلف مقامات پر ہیں۔ ان سب کا ہیڈ کوارٹر ہر دوار میں ہے۔

مقامی سنسکرت ود یا لیہ کے ۲۰ طلبہ آشرم کے ہوسٹل میں رہتے ہیں۔ یہ سب برہمن کے لڑکے ہیں۔ یہاں تعلیم و تربیت پانے کے بعد وہ اپنے وطن چلے جائیں گے اور وہاں پنڈت کا کام سنبھا لیں گے۔ ان کی ضرورت کی تمام چیزیں یہاں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ آشرم کی تعمیر بالکل جدید انداز میں ہوئی ہے۔ پورا فرش سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ طلبہ کو نہایت صاف ستھر اکھانا دیا جاتا ہے۔ اس کا رسوئی گھر مجھے بہت پسند آیا۔ یہاں روزانہ تقریباً تین سو آدمی کا کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑے کمرہ میں واقع تھا۔ میں نے اندر کی طرف دیکھا تو درمیان میں ایک بڑا سا چو کور توارکھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر یک وقت پندرہ روٹیاں پکائی جا سکتی ہیں۔ تو سے کے نیچے گیس کا چولھا جل رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ آشرم کے پاس چالیس گیس سلنڈر کا لائسنس ہے۔ آشرم کے طلبہ صبح ۴ بجے اٹھ جاتے ہیں۔ ہر لڑکا سب سے پہلے اشنان کرتا ہے ۔ کپڑا بدلتا ہے۔ اس کے بعد تیار ہو کر ایک بڑے کمرہ میں سب کے سب جمع ہو جاتے ہیں۔ یہاں سوامی او شیشانند ان کو گیتا کا پاٹھ کراتے ہیں۔ آخر میں سب مل کر ایک ہندی نظم پڑھتے ہیں۔ آر ایس ایس کے ایک دانشور نے کہا کہ دیش بنانا ہے، یہی اصل مدعا ہے، ”دیش بنا نا ہے “ یہ کام میرے حساب سے دس بارہ سال سے نہیں ہورہا ہے۔ کون بنا رہا ہے، کون بنائے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page