۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱
وہ اس طرح اپنے اپنے کاموں میں سرگرم تھے جیسے کہ وہ ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ وہ چیز جس سے لوگ بھڑکتے ہیں وہ تو صرف کانفرنس کے کمرہ کی گونج ہے۔ وہ بس ایک وقتی آواز ہے جو کبھی کبھی اخباروں میں چھپ جاتی ہے۔ اس کے سوا بقیہ ساری انسانیت اور بقیہ تمام کائنات کے لئے وہ گویا ایک نہ ہونے والی بات (non-event) ہے۔ اس قسم کے الفاظ سے غیر متاثرہ رہ کر وہ اپنے فطری راستہ پر چل رہی ہے۔ جو واقعہ وسیع تر دنیا کے اعتبار سے اتنا کم اہم ہو اس پر مشتعل ہونے کی کیا ضرورت۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہم لوگ تنتر کی بات کرتے ہیں۔ مگر ہم اس کو زور زبردستی سے لانا چاہتے ہیں۔ یہ تو تضاد بات ہے۔ جب جب ہم کروانے اور منوانے کی بات کرتے ہیں تو ہم ہننا کی بات کرنے لگتے ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کو اس دیش میں لوگ تنتر لانا ہے یا ہنسا وا دلانا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ جے پرکاش کے آندولن میں ہم لوگ بہت بڑی تعداد میں جڑے تھے، ہم کو آشا تھی کہ اس سے کچھ اچھا نکلے گا۔ مگر جے پرکاش یہ کہہ کر مرے کہ میری تو کوئی سنتا نہیں۔ اسی طرح گاندھی جی آزادی کے بعد یہ کہہ کر مرے کہ اب میری نہیں چلتی۔ ایک صاحب نے کہا کہ اگر انگریز کا راج برا تھا تو باہر کا راج کیوں برا نہیں تھا۔ انگریزوں کی حکومت اگر غلامی تھی تو باہر کی حکومت کیوں غلامی نہیں تھی۔
ایک صاحب نے اپنی تقریر ان الفاظ کے ساتھ شروع کی: میں تو سننے کے لئے آیا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے بولنا شروع کیا تو سب سے زیادہ لمبی تقریر را نہیں نے کی۔ مزید یہ کہ سب سے زیادہ زور زور سے بھی وہی بولے۔
گاندھی جی کے پوتے راج موہن گاندھی نے کافی مایوسانہ انداز میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے سب لوگ بھارتیہ ہیں، یہ میں مانتا ہوں۔ مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی سوچ یہ نہیں۔ آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا کہ بمبئی کے کچھ نوجوانوں نے کچھ لوگوں کو پکڑا اور ان سے زبردستی ”جے شری رام“ کہلایا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آزادی دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ اگر اس دیش کا مسلمان اپنے آپ کو ہندو نہیں کہتا تو کیا زبردستی اس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues