Al-Risala · November 1993 · page 44

گا۔ مجھے کوئی نہیں لاجو کہے کہ میں بناؤں گا۔ “

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴

کی زمین کا بڑا حصہ لے کر یہاں مسجد بنوائی۔ اب پھر یہاں زیادہ بڑے پیمانے پر مندر کا پلک بنوایا جارہا ہے۔

کرشن جنم استھان کے اوپر سے مسجد دکھائی دے رہی تھی۔ مگر وہاں پہنچنے کا کوئی اچھا راستہ نہیں آدمی ایک کچے اور تنگ راستہ سے گزر کر ایک گہرے نالہ کے سامنے پہنچتا ہے۔ اس نالہ پر کوئی پل نہیں ہے۔ اس کے اندر اتر کر اس کو پار کرنا پڑتا ہے۔ ان مراحل سے گزر کر ہی ہم لوگ مسجد کے پاس پہنچے۔

یہ ایک خوبصورت شاہی دور کی مسجد ہے، اس کے سامنے ایک اونچا گیٹ ہے جو بعد کو ۱۳۴۶ھ میں علی خاں، رئیس مسعود آباد نے بنوایا تھا۔ اس کے اوپر ایک فارسی قطعہ ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے:

بکرد انجمن انتظامیہ آں کار صدائے آفریں برخاست از صغار و کبار اس مسجد کے پاس کچھ مسلمان آباد ہیں۔ ان کے تقریباً ۲۰۰ گھر ہیں۔ یہ لوگ گائے اور بھینس کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہاں ہر طرف گندگی اور بے ترتیبی کے مناظر تھے۔ پورا محلہ کوڑے خانہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کچھ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک ظہور محمد صاحب تھے۔ مسجد کے امام صاحب سے ملاقات نہ ہوسکی۔

معلوم ہوا کہ مسجد میں پانچ وقت نماز ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز پوری مسجد بھر جاتی ہے۔ ظہور محمد (۷۵سال) مسجد کے پاس رہتے ہیں۔ ان سے تفصیلی گفت گو ہوئی۔ وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح بھینس کا کام کرتے ہیں۔ ان کا بیان یہ ہے کہ ۱۹۵۴ تک یہاں سب مسلمانوں کی آبادی تھی۔ پیچھے کی جگہ خالی تھی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھگڑا ہوا۔ مقدمہ قائم ہوا۔ کوتوال وغیرہ نے صلح کرائی۔ مسلمان اس پر راضی ہوئے کہ خالی جگہ مندر کے لئے دیدی جائے۔ کوتوال نے کہا کہ ہندو لوگ یہاں مندر بنائیں تو آپ لوگوں کو اعتراض تو نہیں ہوگا۔ مسلمانوں نے کہا کہ نہیں، اگر وہ اپنی ذاتی کوئی بنائیں تو ہم کو اعتراض ہوگا۔ اگر وہ مندر بنائیں تو ہم کو کوئی اعتراض نہیں۔ ظہور محمد صاحب نے کہا میں قوم سے جاٹ، مذہب سے مسلمان اور پیشہ سے گھوسی ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page