گا۔ مجھے کوئی نہیں لاجو کہے کہ میں بناؤں گا۔ “
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵
ڈاکٹر سریندر شرما، بندرا بن (۶۵ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے متھرا کے بارہ میں حسب ذیل کہانی سنائی: یہاں پہلے سے کیشو دیو جی کا مندر تھا۔ اس کو کیشو دیو کڑا کہا جاتا تھا۔ اور نگ زیب نے اس مندر کو توڑا اور اسی کی نیو پر مسجد بنائی۔ مرہٹہ کا راج ہوا تو انھوں نے اس کو نزل بھول ڈ کلیئر کر دیا۔ مگر بنوایا نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ادھیکار آ گیا تب بھی نزول بھومی رہی۔ کمپنی کے زمانہ میں نیلامی ہوئی۔ تقریباً چودہ سور و پیہ میں راجہ ٹینی مل نے سارے چھیترا کو خرید لیا۔ پھر اس کے بعد اسی چھیترا میں ریلوے لائن نکلی۔ ریلوے لائن نے معاوضہ راجہ کو دیا۔ مسلمانوں نے برٹش گورنمنٹ کے ٹائم میں دعویٰ پیش کیا کہ اس کو نہیں دیا جائے۔ لورکورٹ میں مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ میں بھی خارج ہو گیا۔ ۱۹۲۸ میں مسلمانوں کی طرف سے پھر مقدمہ دائر کیا گیا۔ ۱۹۳۲ میں فیصلہ ہوا۔ اس فیصلہ میں اس کی پوری ہسٹری شامل کی گئی۔ اب منوہر لال شرما ایڈوکیٹ نے رٹ دائر کی ہے الہ آباد ہائی کورٹ میں۔ اس میں معاہدہ کو کالعدم کہنے کو کہا گیا ہے۔
۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو دہلی واپس آیا۔ جب گیتا آشرم سے نکل کر ہماری گاڑی بندرا بن کے بازار سے گزری تو میں نے دیکھا کہ بازار کے لوگ بدستور اپنی تجارتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ یہاں ہند و اور مسلم سوال کو بھول کر لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کمانا اور کھانا ہے۔ تمہارے بھاشتروں سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔
شہر سے باہر نکلے تو دنیا اور زیادہ وسیع تھی۔ یہاں فطرت کا ماحول ایک آفاقی پیغام دے رہا تھا۔ آسمان کی وسعتیں بدستور قائم تھیں۔ درخت بدستور اپنی ہریالی دکھا رہے تھے۔ سورج اور چاند کا نظام بدستور اپنی جگہ قائم تھا۔ ہواؤں کے جھونکے بدستور اپنا سہانا پیغام دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگ اشتعال انگیز باتوں پر بھڑکتے ہیں، مگر جو آواز اتنی بے قیمت ہو کہ بولنے کے ساتھ ہی ہوا میں تحلیل ہو کر رہ جائے۔ یا اخبار میں چھپ کر شام تک ردی کی ٹوکری میں پہنچنے والی ہو، اس پر بھڑکنے یا مشتعل ہونے کی کیا ضرورت۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues