ایک میدان
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۶
ایک میدان
ونگ کمانڈر محمد یوسف خان (پیدائش ۱۹۴۳) پروفیشن کے اعتبار سے پائلٹ ہیں مگر اسی کے ساتھ انھیں صحافت کا ذوق بھی ہے۔ اور وہ انگریزی اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے انگریزی مضامین یہاں کے قومی روزناموں میں چھپتے رہے ہیں۔ ۲ دسمبر ۱۹۹۲ کو دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ کئی سبق آموز واقعات ان کی زبانی معلوم ہوئے ۔
آج کل وہ انڈین شل کمپنی (Indian Metal & Ferro Alloys Ltd) میں سینیر پائلٹ ہیں۔ اس کمپنی کا ہیڈ آفس بھوبھیشور (اڑیسہ) میں ہے۔ حال میں ان کا ایک مضمون ہندستان ٹائمس (۱۸ اکتوبر ۱۹۹۲) میں چھپا۔ یہ مضمون بچوں کی تعلیم کے بارہ میں تھا اور اس کا عنوان یہ تھا کہ کیا آپ انھیں ٹیچرزوں پر چھوڑ دیں گے :
Can you leave them to the teachers?
ایک اور مضمون دہلی کے پائی نیر (ہم اکتوبر ۱۹۹۲) میں چھپا۔ یہ ٹورزم (سیاحت) کے بارہ میں تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا : ایک ہفتہ اڑیسہ میں (A week in Orissa) کمپنی والوں کے علم میں یہ مضامین آئے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے ان مضامین کو اپنے دفتر کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا۔ اور ان کی فوٹو کاپی کر کے انھیں اپنی مختلف شاخوں کے نام روانہ کیا ۔ ان مضامین کی اشاعت کے بعد کمپنی کے حلقوں میں یوسف خان صاحب کی عزت و وقعت بڑھ گئی۔ کمپنی میں ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے جنرل منجر مسٹر پاشینے نے کہا کہ ہم کو فخر ہے کہ آپ اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام کارکن یہ جانیں کہ ہمارے یہاں اس صلاحیت کا ایک شخص ہے جو قومی روزناموں میں لکھتا ہے :
We are proud that you write for the news pars. We would like all our employees to know that we have a person of this calibre who writes for the national dailies. (Mr Pashine, General Manager, Human Resource Development) اگر آپ لوگوں کے درمیان عزت چاہتے ہیں تو لوگوں کے کام آئیے، حتیٰ کہ ان کے لیے فخر بن جائیے۔ الرسا / فروری ۱۹۹۳
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues