Al-Risala · February 1993 · page 7

سبب کیا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۷

سبب کیا ہے

بارسلونا(اسپین) میں جولائی۔ اگست ۱۹۹۲ کے درمیان اولمپکس کے مقابلے ہوئے۔ اس میں ۷۱ ملکوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے ۴۷ ملکوں نے مختلف کھیلوں میں اعلیٰ کار کردگی دکھا کر تمغے حاصل کیے۔

ہندوستان جو ۸۷ کروڑ افراد کا ملک ہے وہ ایک بھی تمغہ حاصل نہ کر سکا۔ نہ گولڈ میں نہ سلور میں نہ برانز میں۔ حتیٰ کہ تیر اندازی جو بھارت کی روایات میں شامل ہے اس میں بھی دوسرے ملکوں کے لوگ آگے نکل گئے ۔ ۴۷ جیتنے والے ملکوں کی فہرست میں ابتدائی دس ملکوں کے نام بالترتیب یہ ہیں — سی آئی ایس، امریکہ، جرمنی، چین، اسپین، ہنگری، ساؤتھ کوریا، کیوبا، فرانس، آسٹریلیا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ جو لوگ بیرونی دنیا کا سفر کرتے ہیں یا جن کی عالمی حالات پر نظر ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر آج ہندوستان کی کوئی اہمیت نہیں۔ مثلاً بڑے صنعتی ممالک کی فہرست میں ہندوستان کا نام آخری سطروں میں بھی نہیں ملتا۔ جدید سائنسی ریسرچ میں ہندوستان سرے سے قابل تذکرہ نہیں سمجھا جاتا۔ ہندوستان کے تعلیمی ادارے اپنے معیار کے اعتبار سے سب سے کمتر ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وغیرہ۔

اس پچھڑے پن کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب وہی ہے جس کی طرف ایک مبصر نے ان الفاظ میں اشارہ کیا __ لوگوں کے دماغ ناقابلِ لحاظ چیزوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ وہ وقت کے اصل قابلِ لحاظ مسائل کی طرف متوجہ نہیں :

Men's minds are lost in trivialities, and not attune to the challenging issues of the time. خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، اس دنیا میں اعلیٰ ترقی کا صرف ایک ہی راز ہے۔ اور وہ یہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیا جائے، اور صرف ان باتوں پر سارا دھیان لگایا جائے جو مستقبل کو بنانے یا بگڑنے میں حقیقی طور پر مؤثر ہوتی ہیں۔ ہندوستان کے لوگ اس فرق کو نہیں جانتے، اسی لیے نصف صدی کے ہنگاموں کے باوجود وہ کوئی قابلِ ذکر ترقی نہ کر سکے۔ 7 | ارسال فروری ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page