بولنا، چپ رہنا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۲
اگر وہ کہنے کے قابل بات ہو تو کے ور نہ چپ رہے۔
بولنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس کا بولنا کسی کی بات میں خلل ڈالنے کا سبب تو نہیں بن رہا ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی خیال رینگ گیا تو وہ فوراً ہی اس کو اگلنا شروع کر دیں گے۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ان کا خیال کیا اظہار کے قابل ہے یا نہیں۔
اظہار کے قابل بات کا بھی ہر حال میں اظہار کرنا ضروری نہیں۔ اگر ایک شخص بول رہا ہے اور آپ کا اظہار خیال اس کی بات میں صرف خلل ڈالنے کے ہم معنی بننے والا ہے تو ایسی حالت میں فرض کے درجہ میں ضروری ہو جاتا ہے کہ آدمی چپ رہے۔ ایسے موقع پر چپ رہنا ایک خدمت ہے اور بولنا محض خلل اندازی۔
درست اور مفید بولنا یہ ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے چپ ہونے کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ وہ دوسروں کو سنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو اپنی بات کا مخاطب بنائے ۔ بولنے سے پہلے چپ ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنی بات پر غور کرے۔ وہ اس کے موافق اور مخالف پہلوؤں کا جائزہ لے۔ وہ اس سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرے ۔ اپنی بات پر یقین کر لینے سے پہلے وہ اپنی بات کی تحقیق کرے۔ وہ دوسروں کی سوچ اور اپنی سوچ میں تقابل کرے اور دیکھے کہ کیا واقعی اس کے پاس ایسے طاقت ور دلائل ہیں جو دوسروں کو مطمئن کر سکیں ۔
بولنا برائے بولنا اس دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ بولنا وہی بولنا ہے جس سے کوئی واقعی مقصد پورا ہوتا ہو۔ اور ایسا بولنا کسی شخص کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ . منٹ بولنے کے لیے اس نے اس سے پہلے دس گھنٹہ اس پر غور کیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues