Read

Al-Risala, December 1993

  1. p. 5 انسان جاگ اٹھا
  2. p. 6 طرف آپ کا داماد ہے۔ دوسری طرف آپ کا
  3. p. 7 ایک تشریح
  4. p. 8 قرآنی ہدایت
  5. p. 9 احیاء ملت
  6. p. 10 دعوہ کلچر
  7. p. 11 بولنا، چپ رہنا
  8. p. 12 اگر وہ کہنے کے قابل بات ہو تو کے
  9. p. 13 قول سدید
  10. p. 14 یہ شعر سراسر سداد قول کے خلاف ہے۔ اس
  11. p. 15 بے اصل
  12. p. 16 دو قسم کے انسان
  13. p. 17 بمبئی کا سفر
  14. p. 18 یہ یہ حال ہے کہ ان میں زیادہ تر
  15. p. 19 وہ کبھی مقابلہ کے میدان میں کامیاب نہیں ہو
  16. p. 20 انقلاب کا آغاز کرنے والے ہیں جب کہ انسان
  17. p. 21 Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
  18. p. 22 مسٹر مدھو مہتا کی خاص صفت یہ ہے کہ
  19. p. 23 ڈاکوؤں کے حوالے کر دی۔
  20. p. 24 اس قابل ہیں کہ ان کو نظر انداز کر
  21. p. 25 اس لئے اس کیس کو کلوز کر دیا جائے
  22. p. 2 اور ڈپٹی کمشنر آر ایس راٹھور (R. S. Rathod)
  23. p. 3 والے اتنا پریشان ہوائے کہ انھوں نے راستہ بدل
  24. p. 28 ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ سوامی ویویکانند
  25. p. 29 کو ایک پرائیویٹ معاملہ بتایا تھا وہی مقصد نہیں
  26. p. 30 I am for work. · ۳۰ الرسائل دسمبر ۱۹۹۳
  27. p. 31 I am looking for a job.
  28. p. 32 کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ انتظامیہ (پولیس) نے فساد
  29. p. 33 Unusually it is a very large meeting. · Who is policing the police.
  30. p. 34 میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ فرقہ وارانہ
  31. p. 35 مدراس کا سفر · ۱۵ فروری ۱۹۹۳
  32. p. 36 موجودہ حکومت کی اوپن اسکوئی پالیسی (open-sky policy) کے
  33. p. 37 بنا دیں گے۔
  34. p. 38 مدراس میں کئی تعلیم یافتہ افراد سے ملاقات ہوئی۔
  35. p. 39 کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے
  36. p. 40 چار مٹھ بنائے۔ دوارکا (ویسٹ) بدری کسرانا (نارتھ) جگناتھ
  37. p. 41 ڈیوٹی) ہے۔ یہ سیاسی لوگ ہیں جنہوں نے دھرم
  38. p. 42 کون سی ایسی ہے جو دنیا میں ہر جگہ
  39. p. 43 بڑھائی جائے۔ اخلاق اقدار پیدا کی جائیں۔ اسی طرح
  40. p. 44 کی ضرورت ہے۔ اکثر مسلمان ایسا کہتے ہیں کہ
  41. p. 45 ۱۹ فروری ۱۹۹۳ · They are killing the spirit of India.
  42. p. 46 فجر کی نماز بمبئی میں جو ہوا سکیم میں
  43. p. 47 ملت کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔
  44. p. 48 آگئی۔ یہ اس وقت ہوا جبکہ ایک طرف بابری
  45. p. 49 اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی: یا تو
  46. p. 50 خاموش بیٹھا ہوا تھا ، ہر وقت یہ اندیشہ
  47. p. 51 ادو | انوار حکمت
Printed page