ایک تبصرہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۶
بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پریشد کی قیادت میں ایک لاکھ سے زیادہ انتہا پسند ہندو اجودھیا میں داخل ہو گئے ۔ انھوں نے 465 سالہ با بری مسجد پر یلغار کر دی اور چند گھنٹہ کے اندر اسے کو ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا ۔
یہ بلاشبہ جدید ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ تھا۔ عبادت خانہ کسی سماج میں نہایت قابل احترام چیز سمجھا جاتا ہے۔ عبادت خانہ کو گرانا گویا تمام انسانی قدروں کو ڈھا دینا ہے۔ یہ فعل پارلیمنٹ کے فیصلہ کے خلاف تھا۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تھا۔ نیشنل انٹیگریشن کونسل کی تجاویز کے خلاف تھا۔ وہ انڈیا کی تمام بہترین روایات کے خلاف تھا وہ عالمی رائے عامہ کے خلاف تھا۔ وہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کے خلاف تھا۔ کہ وہ خود متعلقہ انتہا پسند لیڈروں کے اپنے بیان کے خلاف تھا۔ غرض کوئی بھی ملکی یا غیر ملکی اصول نہیں جس کی تائید اس اقدام کو حاصل ہو۔
تمام سنجیدہ طبقوں نے بجا طور پر اس واقعہ کو ملک کے لیے انتہائی افسوس ناک اور سیاہ واقعہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ اتنا زیادہ الم ناک واقعہ ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے ہے۔ مگر دوسرے تمام حادثات کی طرح، اس حادثہ میں بھی یقیناً ایک مثبت پہلو موجود ہے۔ اس تاریخی میں بھی روشنی کا ایک امکان جھلک رہا ہے۔
یہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ یہاں امکانات کی مقدار، ہمیشہ مسائل سے زیادہ ہوتی ہے۔ ظلم کا کوئی بھی واقعہ اس پر قادر نہیں کہ وہ تمام امکانات کو مٹا دے۔ کسی بھی تاریکی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ امید کے تمام چراغوں کو بے نور کر دے۔
فطرت کے قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ یہاں — ظلم اپنی آخری انتہا پر پہنچ کر ندامت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی سماج میں انتہا پسندی کی تحریک صرف ایک بار آتی ہے۔ اور ایک بار جب وہ اپنے آخری انجام تک پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کو دہرانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد فاشزم اٹلی میں دہرائی نہ جا سکی اور اسی طرح نازی ازم کو دوبارہ جرمنی میں فروغ حاصل نہیں ہوا۔
با بری مسجد کا اس طرح ظالمانہ طور پر ڈھایا جانا ہندو انتہا پسندی کے آخری انجام کا آغ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues