Al-Risala · January 1993 · page 7

A dark day, a black day, a day of shame.

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۷

ہے۔ بابری مسجد کا انہدام دراصل ہندوانتہا پسندی کا انہدام ہے۔ اب انشاء اللہ اس میں نیا احساس جاگے گا اور کم از کم دو نسل تک اس طرح کے کسی منفی واقعہ کو پھیر رانا ممکن نہ ہوگا۔

بابری مسجد کے انہدام نے تخریب پسند طاقتوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اب یقینی ہے کہ اس میں سنجیدہ ذہن کے لوگوں کا غلبہ ہوگا۔ زندگی کی تعمیر کے مواقع کھل جائیں گے جو انتہا پسندوں منفی کارروائیوں کی وجہ سے بند ہوگئے تھے۔ ۱۹۹۲ کا خاتمہ اس ملک میں مذہبی تشدد پسندی کا خاتمہ ہے، اور اسی کے ساتھ امن اور رواداری اور باہمی احترام کے نئے دور کا آغاز بھی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے واقعہ کے بعد ہندو صاحبان کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ ہندوؤں کی اکثریت نے کھل کر مسجد کو ڈھانے کی مذمت کی ہے۔ اس کے بارہ میں اخبارات کی رپورٹیں، ان کے ادارتی نوٹ اور ان میں چھپنے والے خطوط بتاتے ہیں کہ ہندو صاحبان کو اس واقعہ سے بہت سخت جھٹکا لگا ہے۔ اخباروں میں عام طور پر اس قسم کے الفاظ ۶ دسمبر کے بارہ میں دیکھنے میں آئے :

A dark day, a black day, a day of shame.

ہر حالات تقریباً یقینی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوانتہا پسندی کی سخت حوصلہ شکنی ہوگی اور ایک عرصہ کے لیے وہ خود ہندوؤں کے درمیان بے زمین ہو کر رہ جائے گی۔

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے لیے اب بہترین روش یہ ہے کہ وہ ماضی کی طرف نہ دیکھیں، وہ صرف مستقبل کی طرف دیکھیں ۔ ۶ دسمبر کے بعد پیش آنے والی صورت حال کو وہ اپنے لیے تعمیر و استحکام کے وقفہ کے طور پر استعمال کریں۔

داخلی تعمیر کے پہلو سے اس ملک میں مسلمانوں کے لیے کرنے کے بہت کام ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے اندر دینی اور اخلاقی بیداری لانا ہے۔ انہیں اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لیے محنت کرنا ہے۔ مسلم نسلوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ انھیں تجارت اور صنعت میں آگے بڑھنا ہے۔ انھیں اپنے موجودہ ملی اور اسلامی اداروں کو ترقی کی طرف لے جانا ہے۔ انھیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page