Al-Risala · February 1993 · page 14

اعتراف اور بے اعترافي

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴

اعتراف اور بے اعترافي

گلبرٹ کیتھ چیسٹرٹن (G.K. Chesterton) ایک انگریز مصنف ہے۔ وہ ۱۸۷۴ء میں لندن میں پیدا ہوا۔ ۱۹۳۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک قول ہے کہ لوگ اکثر جھگڑتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی بات کو دلیل سے ثابت نہیں کر پاتے :

People generally quarrel because they cannot argue. دو آدمیوں کے درمیان کسی اختلافی موضوع پر بات ہو رہی ہو۔ اس کے بعد ان میں سے ایک آدمی تیز تیز بولنے لگے یا الزام تراشی کی زبان استعمال کرنا شروع کر دے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ دلیل کے میدان میں اپنے کو کمزور پا رہا ہے اور دلیل کی کمی کو الفاظ کی زیادتی سے پورا کرنا چاہتا ہے۔ گفتگو میں جھگڑنا خود اپنی کمزوری کا ثبوت ہے نہ کہ فریق ثانی کی کمزوری کا۔

دلیل غصے سے زیادہ طاقت ور ہے ، جس طرح بم تلوار سے زیادہ طاقت ور ہے۔ جس آدمی کے پاس زیادہ طاقت کا ہتھیار ہو وہ کبھی کم طاقت کا ہتھیار استعمال نہیں کرتا۔ اسی طرح جس آدمی کے پاس دلیل کا زور ہو وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کبھی غصہ کا زور نہیں دکھائے گا۔ دلیل کی زمین پر کھڑا ہونے کا احساس آدمی کے اندر پر اعتماد سنجیدگی پیدا کرتا ہے، اور دھاندلی کی زمین پر کھڑا ہونے کا احساس جھنجلاہٹ اور بے یقینی۔

جب دو آدمیوں کے درمیان کسی موضوع پر گفتگو ہو۔ اور دلائل کے سامنے آنے کے بعد یہ ظاہر ہو کہ ایک آدمی کا نقطۂ نظر صحیح تھا اور دوسرے آدمی کا نقطۂ نظر غلط ، تو اس کے بعد دوسرا آدمی کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ اپنی غلطی مان لینے کے بجائے طیش میں آجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اعتراف حق کی عظمت کو نہیں جانتا۔ وہ اپنی عظمت سے واقف ہے مگر وہ حق کی عظمت سے واقف نہیں۔

آج ہر آدمی لذتِ بے اعترافی میں جی رہا ہے۔ کسی کو بھی لذتِ اعتراف کی کیفیت معلوم نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page