حاکم اور محکوم
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۳
حاکم اور محکوم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ ان سے پہلے حضرت ابو بکررض او حضرت عمر کے زمانہ میں حالات درست تھے ، مگر حضرت علی کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے ۔ اس سلسلہ میں ایک شخص سے آپ کی گفتگو اس طرح نقل کی گئی ہے :
سأل رجلٌ علياً رضي الله عنه ما بالُ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مسلمانوں المسلمين اختلفوا عليك ولم يختلفوا کا کیا حال ہے کہ وہ آپ سے اختلاف کر رہے على أبي بكر وعمر - فقال : لأن ابابکر ہیں حالانکہ انہوں نے ابو بکر اور عمر سے اختلاف وعمر کانا واليين على مثلي و انا نہیں کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ اليوم والٍ على مثلت ، يُشير ابوبکر اور عمر میرے جیسے کے اوپر حاکم تھے اور إلى وازع الدين (مقدمہ ابن خلدون (۲۱۱) میں آج تمہارے جیسے کے اوپر حاکم ہوں۔ ان کا اشارہ لوگوں کے دینی رجحان کی طرف تھا۔
خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت صالحہ کس طرح وجود میں آتی ہے ۔ اور اس کے قیام کے اصول و شرائط کیا ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح نظام حکومت قائم ہونے کے لیے صرف صالح حکمران کا ہونا کافی نہیں۔ بلکہ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ ماتحت عوام میں بت بدرضورت صلاح کی کیفیت پائی جارہی ہو۔ اس قول کے مطابق ، خلیفہ اول اور خلیفہ ثانی کی کامیاب حکومت کا راز یہ تھا کہ ان کے زمانہ میں اصحاب رسول بڑی تعداد میں موجود تھے اور معاشرہ پر انہیں کا مزاج غالب تھا۔ مگر خلیفہ چہارم کے زمانہ میں نوممسلموں کی کثرت کے بعد اصحاب رسول اقلیت بن گئے اور معاشرہ پر ان لوگوں کا غلبہ ہوگیا جو اصحاب رسول جیسا ذہن اور مزاج نہیں رکھتے تھے۔
حکمران افراد کی تبدیلی سے پہلے معاشرہ کے افراد کی تبدیلی ضروری ہے۔ معاشرہ اگر بُرا ہو تو صحابی رسول جیسے حکمراں کی موجودگی بھی صالح نظام کے قیام کی ضمانت نہیں بن سکتی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues