Al-Risala · February 1993 · page 16

مسجد کس لیے

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶

مساجد المسجد الحرام ومنسجد مسجد حرام اور مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔

الرسول ومسجد الاقصیٰ ( اخرجه البخاری ومسلم )

مذکورہ تین مسجدوں کے سوا سب مسجدیں اسلام کی نگاہ میں برابر ہیں۔ الا یہ کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی استثنا ثابت ہو۔ ان تین کے علاوہ کسی اور مسجد کو بطور خود اگر کوئی بڑا نام دے دیا جائے، مثلاً اس کو شہنشاہی مسجد کہا جائے تو ایسا نام ان هى الاسماء سميتموها (یوسف) کا مصداق ہوگا، وہ لوگوں کا اپنا خود ساختہ نام ہوگا۔ ایسے کسی نئے نام کی وجہ سے وہ مسجد امتیازی اہمیت کی حامل نہیں بن جائے گی۔

مسجد کس لیے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو (الجن ۱۸) دوسری جگہ مدینہ کی مسجد کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ مسجد ہے جو اول دن سے تقویٰ کی بنیاد پر تعمیر کی گئی (التوبہ ۱۰۸) ان آیتوں سے مسجد کی حقیقت معلوم ہوتی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد وہ عمارت ہے جو صرف اللہ کی نسبت سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں صرف اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت ہونا چاہیے۔ مسجد کو صرف ان اعمال کا مرکز ہونا چاہیے جو بندہ کو اللہ سے قریب کرنے والے ہیں۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے کہ مسجدیں متقیوں کا گھر ہیں (المساجد بيوت المتقين) دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسجد تقویٰ کی تربیت کا مرکز بنے۔ مسجد کا یہ مقصد خود متعین کر دیتا ہے کہ مسجد کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسجد کی زمین ، اس کی تعمیر، اس کا نظام، اس کے اندر کی سرگرمیاں، اس کا ماحول، سب کچھ تقویٰ کے اصول پر مبنی ہونا چاہیے ۔ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جانا چاہیے کہ مسجد سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی معاملہ ایسا نہ ہو جو تقویٰ کے مقصد کو مجروح کرنے والا ہو۔ مسجد کے تمام معاملات میں اصل معیار تقویٰ ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز۔ مسجد کے معاملہ میں اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس پہلو کو ہمیشہ خاص اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ایسی باتوں سے ہمیشہ احتراز کیا گیا ہے جو کسی بھی درجہ میں تقویٰ کے مقصد کو نقصان پہنچانے والا ہو۔ یہاں ہم مساجد اسلامی کی تاریخ سے چند چیزوں کا ذکر کریں گے۔ یہ باتیں احاطہ کے طور پر نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی حیثیت علامتی مثالوں کی ہے۔

الرسَال فروری ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page