Al-Risala · February 1993 · page 17

مسجد کی زمین

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷

مسجد کی زمین

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچے تو آپ نے مدینہ میں ایک مسجد تعمیر کی۔ یہ وہی مسجد ہے جس کو مسجد نبوی کہا جاتا ہے۔ آپ مدینہ پہنچے تو اس وقت وہاں ایک میدان تھا۔ آپ نے اس جگہ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پسند فرمایا۔ اس زمین کے مالک انصار کے دو یتیم لڑکے تھے، جن کا نام سہل اور سہیل تھا، روایت میں آتا ہے کہ:

ثامنهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکوں فقالا بل نهبه لك یا رسول الله۔ فابى سے زمین کی قیمت کا معاملہ کرنا چاہا تو انھوں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ابتاعه کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ زمین ہم آپ کو منهما بعشرة دنانير بلا قیمت دیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (الروض الانف) نے انکار کیا۔ اور زمین کو ان دونوں سے دس دینار میں خریدا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے اسلام کا یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی زمین ایسی ہونی چاہیے جس میں ذاتی ملکیت کا کوئی شبہ نہ ہو۔ تاکہ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ مسجد کی زمین میں اس کا کوئی خصوصی حق ہے، مسجد ایک عبادت خانہ ہے اور اس کو ہر اعتبار سے خدا کا عبادت خانہ ہی ہونا چاہیے ۔

غصب کی زمین نہیں

قرآن کے مطابق کسی مذہب کے عبادت خانہ کو ڈھانا ایک ظالمانہ فعل ہے (الحج ۴۰) خلیفہ ثانی عمر فاروقؓ کے زمانہ میں شام وفلسطین کے عیسائی علاقے اسلامی مملکت میں شامل ہوئے ۔ اس وقت مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جو عہد نامے لکھے گئے ان میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی درج تھا کہ ان کے گھر جا میں رہائش نہ کی جائے گی اور ان کو ڈھایا نہ جائے گا اور نہ ان میں کچھ کمی کی جائے گی (لا يُسكن كنائسهم ولا تُهدم ولا يننقص منها)

اسلام میں یہ بات سراسر ناجائز ہے کہ کسی کی زمین پر زبردستی قبضہ کر کے وہاں مسجد بنائی جائے۔ اگر غصب کی ہوئی زمین پر مسجد بنائی جائے تو اسلامی فقہاء کا کہنا ہے کہ ایسی مسجد میں نماز

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page