تعمیر یا تخریب
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۶
تعمیر یا تخریب
بھارتیہ جنتا پارٹی نے ۳ نومبر ۱۹۹۲ کو بھارت بندمنایا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ گورنمنٹ کے خلاف احتجاج کی علامت کے طور پر ایک روز کے لئے پورے ملک میں ہر قسم کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا جائے ۔ اس قسم کی کال عوام کے تعاون ہی سے کامیاب ہو سکتی تھی۔ مگر عوام نے بہت کم اس کا ساتھ دیا۔ چنانچہ بھارت بند کا منصوبہ عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ۔ اگر کہیں بظاہر کامیابی ہوئی تو وہ زبردستی کی کامیابی تھی۔ اس کی ایک مثال نیچے کی تصویر میں نظر آتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے آدمیوں نے دہلی کی ایک بس کے ٹائر سے اس کی ہوا نکال دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بس کو سڑک پر کھڑا ہو جانا پڑا۔ بند اور ہڑتال خواہ کسی بھی پارٹی کی طرف سے ہو اور کسی بھی ملک میں ہو، بلا شبہ وہ تخریب ہے، اور ہر حال میں قابل مذمت ہے۔ تخریب کاری کا طریقہ زندگی کی چلتی ہوئی گاڑی کو روک سکتا ہے۔ مگر تخریب کاری کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ رکی ہوئی گاڑی کو زندگی کی شاہراہ پر رواں دواں کر سکے۔
اس وقت ملک کا اصل مسئلہ گاڑی کو روکنا نہیں ہے۔ بلکہ رکی ہوئی گاڑی کو چلانا ہے۔ ملک کی آزادی پر نصف صدی کی مدت پوری ہو رہی ہے، مگر اب تک ہمارا ملک ترقی کی شاہراہ پر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues