Al-Risala · February 1993 · page 28

آزمائش کا قانون

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸

آزمائش کا قانون

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو ان سے پہلے تھے۔ پس اللہ ان لوگوں کو جان کر رہے گا جو سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی ضرور معلوم کرے گا (العنکبوت ۱-۳)

مومن خدا کا مطلوب بندہ ہے۔ مومن کے لیے خدا کے یہاں ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جائیں گے مگر مومن کسی نسلی گروہ کا نام نہیں اور نہ زبانی اقرار سے کوئی شخص مومن بن جاتا۔ مومن اس سچے خدا پرست کا نام ہے جس کی سچائی حالات کے امتحان میں ثابت شدہ بن گئی ہو۔ ایک شخص جب یہ کہے کہ میں مومن ہوں تو وہ ایمان کے دروازہ میں داخل ہوگیا۔ مگر یہ کہنا آغاز ہے نہ کہ اختتام۔ اس کے بعد حالات کا عملی امتحان شروع ہوتا ہے۔ اس امتحان کے دوران یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ شخص اپنے دعویٰ میں سچا تھا، یا وہ سچا نہیں تھا۔ اس امتحانی مرحلہ سے گزرنے کے بعد ہی خدا کے یہاں اس کا مرتبہ متعین ہوتا ہے ، اس سے پہلے نہیں۔

سچائی کا اعلان اگر ایک معروف اور مسلم شخصیت کرے تو یہ امتحان کی بات نہیں ہوگی۔ کون ہوگا جو ایسی شخصیت کا انکار کرے۔ اس لیے سچائی کا اعلان ہمیشہ غیر مشہور اور غیر مسلم شخص کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔ اب جو لوگ سچائی کو سچائی کے اعتبار سے پہچاننے کا مادہ رکھتے ہوں وہ فوراً اس کا اقرار کر کے امتحان میں پورے اتریں گے۔ اور جو لوگ سچائی کو شخصیت کے واسطے سے پہچاننے کا مزاج رکھیں ، وہ اس کا انکار کر دیں گے۔ اس طرح وہ امتحان میں ناکام رہیں گے۔

حق کے ساتھ مادی نفع کو حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ جو شخص صرف حق کا طالب ہو وہ اس کو لے لے ، اور جو شخص مادی نفع کا طالب ہے وہ اس کو چھوڑ کر ثابت کرے کہ وہ حق کا سچا طالب نہیں۔ دین کے ساتھ مقبولیت ملتی ہو تو ہر آدمی ایسے دین کی طرف دوڑ پڑے گا۔ اس لیے دین کے ساتھ جنیت کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ کون فی الواقع حق کا طالب ہے اور کون حق کا طالب نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page