آپ ڈاکٹر ہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
آپ ڈاکٹر ہیں
۲۴ مئی ۱۹۹۲ کو حیدر آباد کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان سید عارف الدین قادری (۴۳ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میں جناب ریاض احمد صدیقی (فتح منزل) کے پڑوس میں رہتا ہوں۔ وہ ہمیشہ ہم کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم داعی ہیں اور دوسرے لوگ ہمارے مدعو ہیں۔ اور داعی کو مدعو کے مقابلہ میں ہمیشہ صبر ہی کرنا پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ عارف بھائی! آپ پاگلوں کے ڈاکٹر ہیں۔ اگر کوئی پاگل آپ کو پتھر مار دے تو کیا آپ بھی اس کو پتھر سے ماریں گے۔ نہیں۔ آپ اس کا علاج کریں گے، کیوں کہ آپ ڈاکٹر ہیں اور وہ مریض۔ ایک شخص آپ کو گالی دے یا آپ کے اوپر کیچڑ پھینکے تو اس کے مقابلہ میں آپ کے رد عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو وقار کا مسئلہ بنالیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اس کو علاج کا مسئلہ بنائیں۔ اگرچہ واقعہ ایک ہی ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف جذبات آپ کے اندر ابھریں گے۔
پہلی صورت میں آپ کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھے گا۔ آپ چاہیں گے کہ اس کو سزادیں۔ اس کو کچل ڈالیں۔ اس کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کریں تاکہ اس کو ہمیشہ یاد رہے ۔ جوابی کارروائی کے بغیر کسی طرح آپ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوگا۔ دوسری صورت میں آپ کو اس سے ہمدردی پیدا ہوگی۔ آپ اس کو حریف نہیں بلکہ مریض سمجھیں گے۔ آپ اس کو شریر کی نظر سے نہیں بلکہ معذور کی نظر سے دیکھیں گے۔ آپ کی توجہ اس پر نہیں ہوگی کہ اس نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے ، بلکہ آپ کی ساری توجہ اس پر مرتکز ہو جائے گی کہ آپ کس طرح اس کی برائی کو دور کریں اور اس کو ایک اصلاح یافتہ انسان بنادیں۔ جو آدمی پہلی نوعیت کا کردار ادا کرے اس کے صبح و شام فرشتوں کی صحبت میں گزرنے لگتے ہیں۔ اور جو آدمی دوسری نوعیت کا کردار ادا کرے وہ شیطان کا ہم صحبت ہے شیطان برا ہے۔ جو لوگ شیطان کی صحبت اختیار کریں وہ خود بھی برے بن جائیں گے۔ فرشتے پاکباز ہیں، جو لوگ فرشتوں کی صحبت اختیار کریں وہ خود بھی پاکباز بن جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues