ایک سنت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۰
ایک سنت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو جنگی مقابلے پیش آئے ان میں سے ایک جنگ احد (۳ھ) ہے۔ اس جنگ میں ابتداء اہل اسلام کو فتح ہوئی، مگر عین اس وقت کچھ مسلمانوں کی غلطی سے رخ بدل گیا اور مسلمان وقتی شکست سے دوچار ہوئے۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے: فأصيب سبعون قتيلاً واشرف پس مسلمانوں میں نے ستر آدمی مارے گئے۔ اور ابوسفيان فقال - افر القوم محمد - مشرکین کے سردار ابوسفیان نے بلندی سے پکار کر فقال لا تجيبوه - فقال افي القوم ابن کہا۔ کیا قوم کے اندر محمد ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اسے ابی حافة - فقال لا تجيبوه فقال جواب نہ دو۔ کہنے والے نے پھر کہا۔ کیا قوم کے افر القوم ابن الخطاب فقال اندر ابن ابی قحافہ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اسے لا تجيبوه - فقال ؛ إن هولاء قتلوا - جواب نہ دو۔ کہنے والے نے پھر کہا۔ کیا قوم کے فلو كانوا احياء لأجابوا اندر ابن خطاب ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اسے ( البدایہ والنھایہ ۳ / ۲۵) جواب نہ دو۔ اس کے بعد کہنے والے نے کہا: کہ یہ لوگ مارے گئے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔
جنگ احد کے بعد فریق ثانی کی طرف سے اشتعال انگیز باتیں کہی گئیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل اسلام کو ہدایت فرمائی کہ تم لوگ جوابی انداز اختیار نہ کرو، بلکہ خاموش رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کے مواقع پر مسلمانوں کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس سنتِ رسول نے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے ہیجانی مواقع پر اہل اسلام کو رد عمل کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ وہ نعرہ کا جواب نعرہ سے نہ دیں۔ اس کے بجائے وہ ایسا کریں کہ ایک طرفہ طور پر خاموشی اختیار کر لیں۔ اگر وہ اللہ کی خاطر چپ ہو جائیں گے تو اللہ کے فرشتے ان کی طرف سے جواب دیں گے۔ اور جن لوگوں کی طرف سے اللہ کے فرشتے جواب دیں، ان کو زیر کرنا یقیناً کسی کے بس کی بات نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues