صبر : نفسیاتی قربانی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳
اٹھ کر ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور حضرت عمر کے پاس پہنچ کر اس قولِ رسول کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ بازار کی مشغولیت نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا ( شغلنی الصفق بالاسواق) فتح الباری ۴۲/۱۱ حضرت ابی بن کعب کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو انھوں نے حضرت عمر سے کہا کہ اے عمر! تم رسول اللہؐ کے اصحاب پر عذاب نہ بنو۔ انھوں نے جواب دیا کہ سبحان اللہ، میں نے تو ایک بات سنی۔ پھر میں نے چاہا کہ اس کی حقیقت معلوم کروں ( لا تكن عذاباً علی اصحاب رسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ، سُبحانَ اللهِ ، إِنَّمَا سَمِعتُ شَيْئاً فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَبَتّب) فتح الباری ۴۲/۱۱ اس روایت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کوئی شخص کسی سے ملنے کے لیے جائے اور صاحب مکان اس وقت اس کو ملاقات کا وقت نہ دے تو اس پر جانے والے کے دل میں ملال نہیں آنا چاہیے ۔ اسلامی مزاج کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو کسی معقول عذر پر محمول کرے اور بخوشی وہاں سے واپس چلا جائے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آدمی اگر غلط فہمی کی بنا پر کسی کے بارہ میں ایک غیر واقعی راے قائم کرلے تو اس پر لازم ہے کہ معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ معاملہ کی وضاحت کے بعد اپنی سابقہ رائے پر قائم رہنا مومن کا طریقہ نہیں۔
تیسری بات جو اس واقعہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی شخص دوسرے شخص کے اوپر تنقید کرے ، تو خواہ یہ تنقید کتنے ہی سخت الفاظ میں ہو، زیر تنقید شخص کو اسے برا نہیں ماننا چاہیے ۔ اس کو چاہیے کہ تنقید کو ٹھنڈے دل سے سنے اور کسی اشتعال کے بغیر اصل بات کا جواب دے کر ناقد کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues