Al-Risala · February 1993 · page 34

صبر : نفسیاتی قربانی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴

ایک سفر

۱۵ جنوری ۱۹۹۲ کو مجھے حیدر آباد پہنچنا تھا۔ صبح ۴ بجے نظام الدین سے ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ سڑکوں پر کہر تھی ۔ تاہم وہ زیادہ گہری نہیں تھی۔ گہری کہر ہو تو تیز روشنی میں بھی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح انسانی زندگی میں بھی وہ چیز ہوتی ہے جس کو عام طور پر ذہنی کہر آلودگی (befogging of minds) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم دانشور اور مسلم رہنما یہی کام کر رہے ہیں. وہ اپنی غیر واقعی باتوں سے مسلم ذہنوں کو اتنا زیادہ کہر آلود کر رہے ہیں کہ انھیں اپنے دائیں اور بائیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں ہمیشہ عصر کے ساتھ یسر ہوتا ہے۔ مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے فضا میں ہر طرف عصر عصر کے الفاظ بکھیر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ یسر کی روشنی جلائے تب بھی الفاظ کے گہر نے کہر کی وجہ سے لوگوں کو یسر کا پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ ایئر پورٹ کی بس وقت پر ایئر پورٹ سے جہاز کی طرف روانہ ہوئی۔ بس کے اندر دو مسافر بات کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو کچھ اس طرح تھی :

تم تلو، میں پنجابی۔ میرا تمہارا جوڑ نہیں ہو سکتا۔ تم پانی ہو تو میں آگ ہوں۔ اندھرا اے سے ہے۔ وہ سب سے آگے رہے گا۔

کیا بات کہتے ہو ۔ پنجاب ہمیشہ آگے رہے گا۔

وہ لوگ اگرچہ مذاق میں یہ بات کہہ رہے تھے۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ صرف مذاق نہیں بلکہ حقیقت بھی ہے۔ آزادی سے پہلے ہندوستان ایک تھا۔ مگر آزادی کے بعد وہ کئی ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے کی یکتا منفی بنیاد پر تھی۔ انگریز کا مشترک خطرہ تمام گروہوں کو ایک کئے ہوئے تھا۔ جب انگریز کا نشانہ ہٹا تو سب کا تشخص الگ ہو گیا ۔ ایک ملک کا باشندہ ہونے کے باوجود سب متفرق ہو کر آپس میں لڑنے لگے۔

عین یہی صورت حال پاکستان میں بھی پیش آئی۔ پاکستان کا مطالبہ ہند و خطرہ کی بنیاد پر اٹھا تھا۔ لوگ اس نعرہ پر متحد ہو گئے۔ مگر یہ منفی نعرہ تھا۔ چنانچہ جب پاکستان بن گیا تو منفی بنیاد پر متحد ہونے والے مثبت بنیاد پر متحد نہ ہو سکے۔ ہر ایک اپنا تشخص الگ قائم کر کے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگا۔ رسال فروری ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page