Al-Risala · February 1993 · page 36

Flying in winter still hazardous

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۶

Flying in winter still hazardous

انڈیا میں ۷۵ ہوائی اڈے ایسے ہیں جہاں سردی کے موسم میں گہرے کہرا کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پائلٹ رن وے کو دیکھ نہیں پاتا اور جہاز کو اتارنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا حل مشینی لینڈنگ سسٹم ہے۔ ہوائی اڈہ پر لگی ہوئی مشینیں ہوائی جہاز کو صحیح رخ کی رہنمائی دیتی ہیں اور جہاز نہایت صحت کے ساتھ رن وے پر اتر جاتا ہے۔ جاپان وغیرہ ملکوں میں ایسے آلات بنا لے گئے ہیں جو تقریباً بے خطا انداز میں کام کرتے ہیں۔ (fault-free)

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی، جو خود بھی ایک پائلٹ تھے اور اس مسئلہ کی نزاکت کو سمجھتے تھے، انھوں نے اس اسکیم کو منظوری دے دی تھی کہ مشینی لینڈنگ کا نظام تمام ان ہوائی اڈوں پر لگایا جائے جہاں کہر کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر یہ معاملہ اب بھی وہیں باقی ہے جہاں وہ اس حکومتی منظوری سے پہلے ۱۹۸۵ میں تھا:

Even though former Prime Minsiter Rajiv Gandhi, who himself was a pilot, had sanctiond the scheme for installation of instrument landing system at all the fog- prone airports, the goal remains as elusive today as it was when it first visualised in 1985-85. وزیر اعظم کے باقاعدہ حکم کے باوجود کیوں ہندستانی ہوائی اڈوں پر سابقہ صورت حالاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا معیاری مشینی نظام صرف باہر کے ملکوں (مثلاً جاپان) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر انڈیا کے پاس زر مبادلہ کی شدید کمی ہے۔ اس نے ایک ہندستانی کمپنی ڈیگراٹ الیکٹرانکس لمیٹڈ سے یہ مشینی نظام خریدا۔ مگر جب انہیں استعمال کیا گیا تو وہ انتہائی ناقابل اعتماد ثابت ہوئے۔ (highly unreliable)

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ میں حکومت کا حکم حاصل کرنا، بجائے خود اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ عملی حل کے لئے دوسرے بہت سے عوامل بھی لازمی طور پر ضروری ہیں۔ اگر ان دوسرے عوامل کی مساعدت حاصل نہ ہو تو اعلیٰ سطح کے حکومتی آرڈر کے باوجود مسئلہ غیر حل شدہ حالت میں پڑا رہے گا۔

مشہور انگریزی روزنامہ اسٹیسمن (۱۵ جنوری) دیکھا۔ اس میں سو سال قبل شائع ہونے والا سال فروری ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page