Flying in winter still hazardous
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷
اسی اخبار کا داریہ نقل کیا گیا تھا۔ اس کا عنوان تھا ۔ ڈیوک آف کلارنس کی موت: Death of the Duke of Clarence. ڈیوک آف کلارنس (Albert Victor) ایک برطانوی شہزادہ تھا۔ وہ ۱۸۶۴ میں پیدا ہوا ۔ وہ مستقبل کا بادشاہ (future king) کہا جاتا تھا۔ اس کی شادی شاہی خاندان کی ایک لڑکی سے طے ہو چکی تھی۔ ۱ جنوری ۱۸۹۲ کو یہ خبر آئی کہ شہزادہ کو انفلوئنزا ہو گیا ہے۔ چند دن تک شاہی مریض (royal patient) کا چرچا رہا۔ اور ۱۵ جنوری ۱۸۹۲ کو موصوف کا انتقال ہو گیا۔ ڈیوک آف کلارنس ، شاہانہ شادی اور برطانی تخت کے عین کنارے کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر لوگوں کو خوش شن کن فخر (pleasurable pride) کا ایک احساس جھلکتا ہوا نظر آتا تھا۔ مگر مسرت واقتدار کے دروازہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی موت نے ان کو اس دنیا سے اٹھا لیا۔
انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ دروازہ عظمت میں داخل ہو رہا ہے۔ مگر موت اس کو یاد دلاتی ہے کہ وہ دروازہ عمر کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔
آٹھ بجے ہندی اور انگریزی میں اعلان ہو کہ اب سے کچھ ہی سنے بعد ہمارا درمیان حیدر آباد ایئر پورٹ پر اترے گا:
In a few minute, we shall be landing at Hyderabad. Please fasten your seat belt. یہ الفاظ سن کر ایسا محسوس ہو گیا کہ موت کا فرشتہ اعلان کر رہا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد تم آخرت کی دنیا میں اتارے جانے والے ہو۔ ایک لمحہ تاخیر کے بغیر اس کی تیاری شروع کر دو، حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی ہر آواز آخرت کی آواز ہے۔ مگر غافل انسان ہر آواز کو بس دنیا کی آواز سمجھتا ہے ، وہ اس سے اپنی آخرت کے لئے سبق نہیں لیتا۔
ایئر پورٹ سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حبیب بھائی کے مکان پر پہنچا۔ حیدر آباد میں میرا قیام انھیں کے مکان پر تھا۔ یہاں لوگ آتے رہے اور ان سے الرسالتشن کے بارہ میں اور ملی تعمیر کے موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues