تدوین و حفاظت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۹
مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی میں پریس کا دور آگیا۔ پریس کا دور آجانے کے بعد قرآن میں تحریف یا تبدیلی کا امکان ہی سرے سے ختم ہو گیا۔ آج اگر کوئی شخص دنیا میں گھومے اور ہر شہر سے قرآن کا ایک چھپا ہوا نسخہ حاصل کرے۔ پھر وہ ان ہزاروں نسخوں کا تقابل کرے تو وہ ایک نسخہ اور دوسرے نسخہ میں کسی بھی قسم کا کوئی لفظی فرق نہیں پائے گا۔
قرآن کی صرف کتابت محفوظ نہیں ہے، بلکہ اس کا طرز ادا بھی محفوظ ہے۔ آج ایک مسلمان جب قرآن کو کھول کر پڑھتا ہے تو آواز کے اعتبار سے وہ اسی طرز ادا کا اتباع کرتا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا یا جس کی تلقین آپ نے فرمائی تھی۔ آج کے ایک قاری قرآن کے طرز ادا میں اور زمانہ نبوت کے طرز ادا میں حقیقی اعتبار سے کوئی صوتی فرق نہیں۔
مثال کے طور پر سورۃ القیامۃ میں ایک آیت ہے جو اس طرح لکھی جاتی ہے: وقيل من راق۔ عربی گرامر کے لحاظ سے اس آیت کو ایک جملہ کے طور پر مسلسل پڑھنا چاہیے ۔ مگر قرآن کا ہر قاری جب اس کو پڑھتا ہے تو وہ من پر سکتہ کرتا ہے۔ یعنی وقيل من کہہ کر وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہرتا ہے، اس کے بعد وہ کہتا ہے: راق۔ قواعد زبان کے اعتبار سے اس طرز ادا کا کوئی سبب نہیں ہے۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ راویوں نے یہ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت پڑھی تو آپ من کہہ کر ایک لمحہ کے لیے رک گئے اور پھر اگلا لفظ ادا فرمایا۔ یہی معاملہ سارے قرآن کی تلاوت کا ہے۔
الفاظ قرآن کی ادائیگی میں نبوت کا یہ اتباع انتہائی کامل صورت میں آج تک قائم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح قرآن کو پڑھتے تھے، اس کو آپ کے اصحاب نے آپ سے سنا اور ٹھیک اسی طرح اس کو دہرایا۔ پھر تابعین نے صحابہ سے سنا اور عین اسی طرح اس کو دہرایا۔ اس کے بعد تبع تابعین نے تابعین سے سنا اور اس کو ویسا ہی دہرایا۔ اس طرح نسل در نسل نبوت کی تلاوت ٹھیک اسی طرح دہرائی جاتی رہی۔ پچھلے لوگ اپنے اگلے لوگوں کو اسے سناتے رہے۔ یہ سلسلہ زمانہ نبوت سے لے کر اب تک مسلسل بلا انقطاع جاری ہے۔ یہاں تک کہ آج ایک عرب عالم جب قرآن پڑھتا ہے تو گویا کہ وہ ایک زندہ ٹیپ کی مانند عین اسی تلاوت کو دہرارہا ہوتا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے فرمائی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues