قرآن خدا کی کتاب
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰
قرآن خدا کی کتاب
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اُس کی بابت اعلان کیا تھا کہ۔ جن لوگوں نے نصیحت کی اس کتاب کا انکار کیا جب کہ وہ ان کے پاس آگئی ، اور بے شک یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ اس میں باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ حکیم وحمید کی طرف سے اتاری گئی ہے (حم السجدہ ۴۱-۴۲) تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے جب قرآن اترا، اس وقت ان الفاظ کی حیثیت ایک پیشین گوئی کی تھی۔ آج یہ پیشین گوئی ایک تاریخی واقعہ بن چکی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب ایک استثنائی نوعیت کی کتاب ہے ۔ وہ ایک ایسے خدا کی طرف سے بھیجی گئی ہے جو تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کے مخالفانہ حالات کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا کہ اس میں کوئی دخل اندازی یا بگاڑ واقع ہو ، نہ براہِ راست اور نہ بالواسطہ ۔
یہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ اس قسم کے ایک واقعہ کو اسباب کی دنیا میں ظہور میں لانے کے لیے کائناتی طاقتیں درکار ہیں۔ اس کو صرف خداوندِ عالم ہی ظہور میں لاسکتا ہے۔ اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خداوند عالم کی کتاب ہے ۔
اس پیشین گوئی کو عالمِ اسباب میں واقعہ بننے کے لیے ضروری تھا کہ ایک طاقتور انسانی گروہ مستقل طور پر اس کی پشت پر موجود رہے۔ پچھلے نبیوں کی تعلیمات اور اس کی تعلیمات میں غیر مطابقت پیدا نہ ہو۔ کوئی ادیب یا مفکر قرآن کا جواب لکھنے پر قادر نہ ہو۔ کوئی نئی نبوت نبوّتِ محمدی کی حریف بن کر نہ اُبھر سکے ۔ علومِ انسانی کا ارتقا اس کی کسی بات کو کبھی غلط ثابت نہ کرے ۔ تاریخ کا اتار چڑھاؤ کبھی اس پر اثر انداز نہ ہونے پائے ۔ قرآن کی زبان (عربی) ہمیشہ ایک زندہ زبان کی حیثیت سے باقی رہے۔ وغیرہ قرآن کے نزول کے بعد سے اب تک کی لمبی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تمام اسباب حیرت انگیز طور پر اس کے حق میں جمع رہے ہیں۔ قرآن کے سوا کوئی بھی دوسری کتاب ایسی نہیں جس کے حق میں یہ غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہو۔
قرآن کا یہ استثنائی معاملہ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ قرآن خدا کی کتاب ہے ، وہ کسی جن یا کسی انسان کی تصنیف نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues