قرآن خدا کی کتاب
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱
دور اول میں ممکہ میں قرآن اور حاملین قرآن انتہائی کمزور تھے۔ کہ کس کے طاقت ور مخالفین اگر اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو جاتے تو قرآن کی کہانی کہ سے شروع ہو کر مکہ ہی میں ختم ہو جاتی۔ مگر اس کے بعد معجزاتی طور پر اہل مدینہ (انصار) اس کی حمایت پر کھڑے ہو گئے اور قرآن کی تاریخ آگے بڑھ گئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دوبارہ قرآن اور حاملین قرآن کی حالت، حضرت عائشہ کے الفاظ میں، ایسی ہوگئی جیسے سردیوں کی بارش میں بھیگی ہوئی بکری۔ مگر اس کے بعد اعاجم (بیرون عرب کی قومیں) بہت بڑی تعداد میں قرآن کے دین پر ایمان لائیں اور اس کی تاریخ کا سفر دوبارہ مزید تیزی کے ساتھ جاری ہو گیا۔
اس کے بعد مختلف سلطنتیں قائم ہوئیں۔ ان کے درمیان باہمی طور پر سخت اختلافات رہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ایک مسلم گروہ دوسرے مسلم گروہ کا جانی دشمن ہو گیا۔ مگر جہاں تک قرآن کا تعلق ہے، اس کی حفاظت اور اس کے احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہر جماعت اور ہر حکمراں اس کو اپنے لیے فخر سمجھتا رہا کہ وہ قرآن کا خادم اور محافظ بنا رہے۔
عباسی سلطنت کے بعد وحشی منگول عالم اسلام پر چھا گئے۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ تاریخ کو الٹی سمت میں چلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر پچاس سال کے اندر یہ معجزہ پیش آیا کہ خود قرآن نے ان فاتحین کو مسخر کر لیا۔ ان کی اکثریت قرآن کے دین میں داخل ہو کر قرآن کی خادم بن گئی ۔ اس کے جلد ہی بعد ترک ابھرے۔ انھوں نے عظیم عثمانی خلافت قائم کی جو یورپ سے ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان میں بہت سی کمزوریاں تھیں۔ علم کے اعتبار سے بھی وہ بہت پیچھے تھے مگر جہاں تک قرآن کا تعلق ہے، وہ آخری حد تک قرآن کے وفادار بنے رہے، قرآن کی خدمت اور حفاظت میں وہ ہمیشہ پوری طاقت کے ساتھ سرگرم عمل رہے۔
بیسویں صدی میں جدید صنعتی انقلاب نے حاملین قرآن کو اتنے پیچھے دھکیل دیا کہ وہ کسی بھی مؤثر کارروائی کے قابل نہ رہے۔ مگر عین اس وقت "پٹرول" کی طاقت ظاہر ہوئی۔ صنعتی نظام کا ایندھن پٹرول تھا اور اس پٹرول کا ۸۵ فیصد حصہ حاملین قرآن کے قدموں کے نیچے جمع ہو گیا۔ اس طرح موجودہ زمانہ میں پٹرول کی قدرتی نعمت قرآن کی حامی بن کر کھڑی ہوگئی۔ قرآن دوبارہ اس قابل ہو گیا کہ وہ تاریخ میں اپنی پیش قدمی کو بدستور جاری رکھ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues