Al-Risala · March 1994 · page 17

علمی تصدیق

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کی یہ آیت قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کا ایک علمی ثبوت ہے۔ کیوں کہ چودہ سو سال پہلے جب کہ انسان تعدد مشارق اور تعدد مغارب کی حقیقت سے بے خبر تھا، یہ صرف ایک برتر ہستی ہی کے لیے ممکن تھا کہ وہ اس کائناتی حقیقت کو جانے اور اس کے بارے میں نہایت صحیح بیان دے۔

قرآن کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جس میں کائناتی مظاہر کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ستاروں کی گردش، از بین پر صبح و شام کا ہونا، ماں کے پیٹ میں بچہ کی پرورش، نباتات اور حیوانات کے معاملات، ہواؤں کے تصرفات، وغیرہ۔

قرآن میں یہ حوالے چودہ سو سال پہلے دیے گئے تھے۔ اس وقت انسانی تاریخ ابھی روایتی دور میں تھی۔ کائناتی مظاہر کے بارہ میں اس وقت جو خیالات دنیا میں پھیلے ہوئے تھے وہ سب تو ہمات اور مفروضات پر مبنی تھے۔ مگر قرآن کے ان حصوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قرآنی بیانات پر مروجہ اوہام کا کوئی عکس نہیں۔ زمانی خیالات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے قرآن میں ایسے اشارے کیے گئے جو بعد کی علمی دریافتوں کے عین مطابق تھے۔ مثلاً قرآن میں اعلان کیا گیا کہ تمام زندہ چیزیں پانی سے بنائی گئی ہیں (الانبیاء، ۳۰) اس آیت کے نزول کے وقت کوئی بھی متعین طور پر نہیں جانتا تھا کہ پانی اور زندہ چیزوں کے درمیان کس قسم کا ربط ہے۔ یہ بہت بعد کی تحقیقات ہیں جن کے بعد سائنس کی کتابوں میں لکھا گیا کہ نباتات، حیوانات اور انسان سب کے لیے پانی بالکل لازمی ضرورت ہے۔ نباتات اور حیوانات کے جسم میں جتنے بھی عمل ہوتے ہیں ان سب میں پانی کا حصہ ہوتا ہے :

Water is essential to terrestrial life, participating in virtually every process that occurs in plant and animal organism. (X/565)

پانی کی یہ اہمیت قدیم زمانہ میں متعین طور پر معلوم نہ تھی۔ اس وقت قرآن میں مذکورہ واقعہ کا اعلان کیا گیا، اور وہ اعلان بعد کی علمی دریافتوں کے عین مطابق ثابت ہوا۔ قرآن کا یہ پہلو اس بات کا یقین ثبوت ہے کہ قرآن ایک لامحدود ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ کوئی محدود ذہن ایسا ابدی کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page