گر کر اٹھنا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳
گر کر اٹھنا
نہ گر نا کمال نہیں کمال یہ ہے کہ تم گرو ، اور پھر از سر نو اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ ۔ جو شخص نہیں گرا ، اس نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ کارنامہ انجام دینے والا وہ ہے جو گرے اور پھر اٹھ کر چلنے لگے۔
جو آدمی نہیں گرا وہ حقیقتاً چلا ہی نہ تھا۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہر چلنے والا گرتا ہے۔ پھر ایسے نہ گرنے کی کیا قیمت ۔ انسان کی شان اسی میں ہے کہ وہ چلے ۔ انسان چلنے کے لئے بنایا گیا ہے ، وہ بیٹھنے کے لئے نہیں بنایا گیا ۔ اور جب وہ چلے گا تو ضرور ہے کہ اس کے ساتھ گرنے کا واقعہ بھی پیش آئے ۔
نہ گر نا ٹھہر اؤ کی علامت ہے اور گر نا حرکت اور عمل کی علامت ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے گرنے پر شرمندہ نہ ہو بلکہ اس کو اپنی اعلیٰ انسانیت کا ثبوت سمجھے کہ اُس کے ساتھ گرنے کا واقعہ پیش آیا ۔ جب وہ اس طرح سوچے گا تو وہ گرنے کے بعد فوراً اٹھ کر دو بار ہ کھڑا ہو جائے گا ۔
نہ گر نا کمال نہیں ، کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ نہ چلنا کمال نہیں۔ از سر نو اٹھنا کمال ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ چلتے رہنا کمال ہے۔ کیوں کہ جو شخص ٹھہرا رہے ، وہی گرنے سے بچے گا ۔ چلنے والوں کا معاملہ اس دنیا میں یہی ہے کہ وہ بار بار گرتے ہیں اور پھر بار بار اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
آدمی جب گرتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھ کر چلنے لگتا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ گر نا اس کے لئے نئے حوصلے کا ذریعہ بن گیا۔ گر کر اس نے دوبارہ اپنے لئے ایک نئی طاقت حاصل کرلی ۔
بیٹھنے کے بجائے چلئے ، اور چلنے کے بعد جب گریں تو اٹھ کر کھڑے ہو جائیے ۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ آپ اپنے لئے نئی دنیا نہیں بنا سکتے ۔ اس لئے آپ گرنے سے بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے ۔ کیوں کہ دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کو اسی طرح بنایا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues