Al-Risala · January 1994 · page 12

نادانی اور دانش مندی

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲

نادانی اور دانش مندی

نادان نے کہا کہ میں نے اپنے ماضی اور حال کو برباد کر دیا۔ دانش مند بولا، مگر مستقبل تو بر باد نہیں ہوا ــــــــ آدمی کی زندگی صرف ماضی اور حال کے او پر ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کی لمبی زندگی میں مستقبل بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ پھر کوئی شخص ماضی اور حال کے کھونے کا غم کیوں کرے، جب کہ مستقبل اب بھی آپ کے پاس پوری طرح موجود ہے۔

کوئی شخص اپنے گزرے ہوئے دنوں کو گنو اسکتا ہے۔ مگر اس کے آنے والے دن تو اب بھی اس کے پاس باقی ہیں۔ اگر آدمی اپنے احساس کی شدت کو پچھلے دنوں کی تلخ یاد میں نہ لگائے بلکہ اس شدت کو آنے والے دنوں کو استعمال کرنے میں لگادے تو ہو سکتا ہے کہ پہلے اس نے جو کچھ کھویا ہے، اس کو وہ آئندہ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کرلے۔

ماضی آپ کے ہاتھ سے نکل چکا، حال بھی آپ کا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔ اب جو چیز آپ کے پاس باقی ہے وہ صرف آپ کا مستقبل ہے۔ آپ بیتے ہوئے دن یا جانے والے لمحات کا غم کیوں کریں۔ آنے والے دن جواب بھی پوری طرح آپ کے قبضہ میں ہیں، ان پر اپنی ساری توجہ لگا دیجئے۔ یہی ممکن بھی ہے اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔

نادان کی نظر ہمیشہ پیچھے کی طرف ہوتی ہے اور دانش مند کی نظر ہمیشہ آگے کی طرف۔ نادان آدمی صرف اس کو جانتا ہے جو ہو چکا۔ دانش مند اس کو بھی جانتا ہے جو ہو سکتا ہے۔ آپ نادان نہ بنئے، آپ کوشش کیجئے کہ آپ کا نام دانش مندوں کی فہرست میں لکھا جائے ۔ جب آدمی کے لئے دانش مند بننے کا موقع بھی موجود ہو اور اسی کے ساتھ نادان بننے کا موقع بھی، تو وہ نادان کیوں بنے ، کیوں نہ وہ دانش مند بننے کی کوشش کرے۔ وہ تاریکیوں میں کیوں بھٹکے، جب کہ روشنی کے دروازے بھی اس کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔

زندگی ایک مسلسل سفر ہے جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف جاری ہے۔ جو شخص ماضی اور حال میں اٹک کر رہ جائے وہ گویا زندگی کی حقیقت کا انکار کر رہا ہے۔ اور حقیقت کا انکار کرنے والا خود اپنا انکار کرتا ہے، حقیقت کو بدلنا اس کے لئے کسی طرح ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page