قرآن کمی طاقت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۲۳
قرآن کی وہ معنوی طاقت کس طرح ظاہر ہوتی ہے جو دلوں پر ضرب لگائے اور سینوں میں ہلچل پیدا کر دے۔ وہ اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن کے معانی کو کھولا جائے ۔ اس کو لوگوں کے لیے قابلِ فہم بنایا جائے ۔ اس کو لوگوں کے شعور میں اتارا جائے ۔
جو لوگ عربی زبان جانتے ہیں وہ براہ راست عربی متن سے یہ تاثر حاصل کریں گے ۔ اور جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ بھی جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو وہ اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں ۔
انسان فطری طور پر ایک ”معبود“ کی تلاش میں رہتا ہے ۔ وہ شک اور یقین کے درمیان ہوتا ہے کہ اس کے کان میں قرآن کی یہ مرعوب کن آواز آتی ہے : أفي الله شك فاطر السماوات والارض (کیا تم کو شک ہے اللہ کے بارہ میں جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا) اور وہ حیرانی کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا ، تو ہی زمین و آسمان کا خالق ہے۔ میں تیرے آگے جھک کر تیرا اقرار کرتا ہوں ۔
انسان تردّد میں ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خدا ایک ہے یا اس کے کئی خدا ہیں۔ پھر وہ قرآن میں ان پراثر الفاظ کو پڑھتا ہے : قل ھُوَ الله احد (کہہ دو کہ وہ خدا ایک ہے) اسی طرح وہ قرآن میں پڑھتا ہے کہ لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا (اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو یقیناً دونوں درہم برہم ہو جاتے) اور پھر انسان کے ذہن کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ بے شک خدا صرف ایک ہے، اس کے سوا کوئی خدا یا معبود اس کائنات میں نہیں ۔
انسان اس گمان میں رہتا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ یہاں بس پیدا ہونا ہے اور پھر مرجانا ہے۔ اس کے بعد وہ قرآن میں پڑھتا ہے : افحسبتم انما خَلَقْنَا کُمْ عبثا وانكم الينا لا ترجعون (المؤمنون ۱۱۵)
اس کے بعد وہ بے تابانہ پکار اٹھتا ہے : ربنا ما خلقت ھَذَا باطلا (خدایا تو نے اس کو عبث نہیں پیدا کیا) وہ حیات اور کائنات کی حقیقت سے باخبر ہو کر رب العالمين کے سامنے جھک جاتا ہے۔ اس کی بے معنی زندگی اچانک با معنی زندگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues