Al-Risala · March 1994 · page 22

قرآن کمی طاقت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲

قرآن کمی طاقت

ڈاکٹر ذاکر حسین (۱۹۶۹ - جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے معماروں میں سے تھے۔ آخر عمر میں وہ ہندوستان کے صدر جمہوریہ بنائے گیے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے انتقال کیا۔ انھوں نے ریڈیو پر بہت سی تقریریں کی تھیں۔ ایک تقریر میں انھوں نے اپنے ایک ابتدائی استاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا :

" خدا بخشے علی گڑھ کے مشہور استاد مولوی عباس حسین صاحب کو ۔ فرمایا کرتے تھے کہ بھائی، قرأتِ قرآن کا فن ختم ہو گیا۔ میرے اپنے استاد مرحوم جن سے میں نے قرأت سیکھی، وہ اس کے آخری جاننے والوں میں تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر " ق " کا صحیح تلفظ مٹکے کے اندر کر دوں تو مٹکا پھٹ جائے " (بچوں کی تربیت ، نیا کتاب گھر لاہور، صفحہ ۹۵)

کیسی عجیب بات ہے کہ وہ قرآن جس کے اندر پہاڑوں کو ہلا دینے کی طاقت تھی (الحشر ۲۱) جس کو سن کر کتنے لوگوں کے سینے شق ہو گیے (مثلاً عمر فاروق ) وہ بالآخر ایک ایسے فن تک جاپہونچا جو بس مٹی کا ایک " مٹکا " توڑ سکتا تھا۔ اور اب یہ حال ہے کہ وہ کاغذ کے صفحات میں چھپا ہوا پڑا ہے ، اور اس کے اندر کسی بھی چیز کو توڑنے کی صلاحیت نہیں۔ حتی کہ اغیار یہ کہنے لگے ہیں کہ قرآن اب ایک ختم شدہ طاقت (Spent force) ہے ، اب وہ کوئی کارنامہ انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، اور نہ اس کے ذریعہ سے دنیا میں کوئی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

یہ حالت اس لیے نہیں ہے کہ خدا نخواستہ قرآن میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ قرآن میں آج بھی تسخیری قوت ہے۔ آج بھی وہ انھیں طاقتوں کا خزانہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے جس کا اظہار اس کے نزول کے ابتدائی زمانہ میں ہوا تھا۔ البتہ قرآن کے حاملین اس محفوظ خزانہ کو حاصل کر کے اس کو باہر کی دنیا میں لانے کے قابل نہ رہے۔

قرآن کی لفظی قرأت اگر مٹکا توڑ سکتی ہے تو اس کا معنوی اظہار دلوں اور دماغوں میں زلزلہ پیدا کر سکتا ہے۔ مگر اصل کی یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں قرآن کے معنوی اظہار کے لیے کوئی حقیقی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ موجودہ زمانہ میں قرآن کا یہ پہلو ابھی تک غیر اظہار شدہ پڑا ہوا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page