اندھیرے میں اجالا
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹
دورِ اول میں قرآن نے اس طرح لوگوں کو متحرک کیا کہ وہ دنیا سے اندھیروں کو ختم کرنے والے اور ہر طرف اجالا پھیلانے والے بن گئے ۔ ان سے لوگوں کو رہنمائی ملی، جب کہ اس سے پہلے لوگ گمراہی میں بھٹک رہے تھے ۔
ایسا کیوں کر ہوا ۔ وہ اس طرح ہوا کہ انھوں نے قرآن کو پڑھ کر اس میں عظیم ترین سچائی کو پایا۔ قرآن ان کے لیے حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کا ذریعہ بن گیا۔ قرآن نے ان کے ذہن کے بند دروازوں کو کھول دیا۔ قرآن نے ان کے سینے میں حوصلے کے چشمے جاری کر دیے۔ قرآن نے ان کی سوچ کی سطح کو بلند کیا اور اسی کے ساتھ ان کے کردار و عمل کے معیار کو بھی اونچا کر دیا۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز متحرک کرتی ہے وہ یہ کہ وہ اپنی زندگی کے لیے کوئی اعلیٰ مقصد پالے۔ قرآن نے دورِ اول کے اہلِ ایمان کو یہی اعلیٰ مقصدِ حیات دیا۔ یہ مقصد اتنا بلند تھا کہ اس کی حد کہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کی ذات سے ایسے اعمال ظاہر ہوئے جو کسی حد پر رکنا نہیں جانتے تھے۔
قرآن نے ان کے شک کو یقین میں بدلا۔ قرآن نے ان کو ذاتی مفاد کے دائرہ سے اٹھا کر آفاقی مفاد کے دائرہ میں پہنچا دیا۔ قرآن نے ان کے ذہن کو جگا کر اس کے اندر سوچ کی بے پناہ طاقت بھر دی۔ قرآن نے انھیں ہر عشر میں بیس کو دیکھنے والی نگاہ عطا کر دی۔ جو لوگ اس طرح کی خصوصیات کے حامل بن جائیں وہ پہاڑ سے زیادہ طاقت ور اور سمندر سے زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ، ایک مستشرق کے الفاظ میں ، ان میں سے ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔ حتیٰ کہ نزولِ قرآن کی سرزمین کا یہ حال ہو گیا کہ وہ ہیرؤوں کی زرخیز زمین بن گئی ہو ۔
انسان کے اندر فطری طور پر غیر معمولی صلاحیتیں رکھی گئی ہیں۔ یہ صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کو جگانے کے لیے کسی طاقت ور فکری بھونچال کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن آدمی کے اندر یہی فکری بھونچال پیدا کرتا ہے۔ قرآن آدمی کی فطری طاقتوں کو جگا کر اسے بے پناہ بنا دیتا ہے ۔ قرآن آدمی کے اندر انقلاب پیدا کر کے اس کو ایک نیا انسان بنا دیتا ہے۔ وہ انسان سے اوپر اٹھ کر سپرانسان بن جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues