قرآن نے فتح کیا
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰
قرآن نے فتح کیا
سر آرتھر کیتھ (Arthur Keith) ایک انگریز محقق ہے۔ وہ ۱۸۶۶ میں پیدا ہوا، اور ۱۹۵۵ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے انسانی ارتقا کے موضوع پر خصوصی ریسرچ کی ہے۔ ۱۹۴۸ میں اس کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا ۔ انسانی ارتقا کے بارے میں ایک نیا نظریہ:
A New Theory of Human Evolution
آرتھر کیتھ نے اپنی اس کتاب میں مصر کی قدیم تاریخ کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے لکھا ہے کہ اسلامی دور میں مصریوں کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ اس کو مسلمانوں کے قرآن نے فتح کیا : The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. (p.303, ed.1950)
مصری کی تاریخ دنیا کی قدیم ترین تاریخوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں لمبی لمبی مدت تک یونانیوں، ایرانیوں اور رومیوں کا غلبہ رہا ہے۔ اسلام سے پہلے یہاں مسلسل چار سو سال تک مسیحی شہنشاہ کی حکومت قائم تھی۔ مگر ان حکومتوں کے لمبے غلبہ کے باوجود مصر کے مذہب اور تہذیب میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آسکی۔ ان میں سے ہر ایک کا غلبہ زیادہ تر سیاسی غلبہ تھا جو سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ لیکن ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کا مصر میں داخلہ سراسر دوسری نوعیت کا تھا، اس نے مصریوں کی ہر چیز کو بدل دیا۔ اس سے پہلے مصریوں کی زبان قبطی تھی، اب ان کی زبان عربی ہوگئی۔ اس سے پہلے ان میں مشرکانہ تہذیب کا رواج تھا، اب ان میں موحدانہ تہذیب کا رواج ہوگیا۔ اس سے پہلے بت پرستی ان کا مذہب بنا ہوا تھا۔ اب دین اسلام ان کا مذہب بن گیا۔ اسلام نے مصریوں کے پورے فکری، اعتقادی، دینی اور تہذیبی ڈھانچہ کو بدل کر کچھ سے کچھ کر دیا۔ اتنی گہری اور اتنی دور رس تبدیلی کبھی تلوار کے ذریعہ نہیں ہوسکتی، اور نہ کبھی ایسی تبدیلی تلوار کے ذریعہ ہوئی۔ یہ تبدیلی دراصل قرآن کے نتیجہ میں تھی۔ مصریوں نے جب عربی سیکھنے کے بعد قرآن کو پڑھا تو اس نے ان کو شدت کیساتھ متاثر کیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے تمام رواجوں کو چھوڑ کر قرآنی مذہب کے پیرو بن گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues