The Bible, The Qur'an and Science
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵
قرآن ایک معجزہ ہے اپنے معنی کے لحاظ سے بھی اور اپنے الفاظ کے لحاظ سے بھی۔ ایک شخص عربی زبان جانتا ہو اور وہ قرآن میں غور وفکر کرے تو وہ اس کے اندر معانی کے اعتبار سے خدائی عظمت کا ادراک کرے گا۔ لیکن اگر ایک شخص اس کے معانی پر دھیان نہ دے، وہ صرف اس کی آواز سنے تب بھی وہ اس سے غیر معمولی نوعیت کا گہرا تاثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تاریخ میں دونوں قسم کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ پہلی نوعیت کی بھی اور دوسری نوعیت کی بھی۔ فرانس کے پروفیسر مارلیس بکائی (Maurice Bucaille) قرآن کی معنوی عظمت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے قرآن کے گہرے مطالعہ کے بعد وہ کتاب لکھی جو حسب ذیل نام سے عمومی شہرت حاصل کر چکی ہے :
The Bible, The Qur'an and Science
انگلستان کے پروفیسر آربری (Arthur J Arberry) ایک بار تیونس میں مقیم ہوئے ۔ ان کے پڑوس میں ایک مسلمان کا مکان تھا۔ ایک روز مسلمان ریڈیو پر قرآن کی قرآت سن رہا تھا۔ یہ آواز پروفیسر آربری کے کان میں پہنچی۔ وہ اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن کا مطالعہ شروع کیا، ان کی دلچسپی یہاں تک بڑھی کہ انھوں نے قرآن کا مکمل ترجمہ انگریزی زبان میں کر ڈالا۔ یہ ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے حسب ذیل نام سے تحت شائع ہوا ہے :
The Koran Interpreted
قرآن کی یہ معجزاتی تاثیر ہر دور میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ دور اول میں مکہ اور مدینہ اور باہر کے قبائل میں جو لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے وہ سب قرآن کو سن کر اور پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد پوری تاریخ میں قرآن اسلام کا سب سے زیادہ طاقت ور ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ ہر زمانہ میں قرآن کا غیر معمولی اسلوب اور اس کا آسمانی خطاب افراد اور قوموں کو مفتوح کرتا رہا ہے۔
قرآن ایک ایسا کلام ہے جو اپنے اندر بے پناہ تسخیری قوت رکھتا ہے۔ اپنی خاموش معنویت کے اعتبار سے بھی، اور اپنی غیر معمولی ربانی آواز کے اعتبار سے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues