Al-Risala · March 1994 · page 34

معجزاتی کلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴

معجزاتی کلام

محمد مارماڈیول پکتهال (۱۹۳۶ء- ۱۸۶۵ء) ایک انگریز نو مسلم تھے ۔ انہوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا ہے جو کافی مشہور ہے۔ انہوں نے اپنے ترجمہ کے ساتھ ایک دیباچہ لکھا ہے۔ اس دیباچہ میں وہ قرآن کے ترجمہ کے مسائل کا ذکر کرتے ہیں ۔

اس سلسلہ میں انھوں نے لکھا ہے کہ اس ترجمہ میں متن کے مطابق موزوں زبان اختیار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے ۔ مگر اس کا نتیجہ یہ نہیں ہے کہ عربی قرآن کی جگہ انگریزی قرآن تیار ہو گیا ہو۔ عربی قرآن ایک ناقابلِ تقلید نغمگی کا مجموعہ ہے۔ اس کی مجرد آواز ہی آدمی کے اندر ارتعاش پیدا کر کے اس کو رلا دیتی ہے۔ اور اس پر وجد کی کیفیت طاری کر دیتی ہے : Every effort has been made to choose befitting language. But the result is not the Glorious Qur'an, that inimitable symphony, the very sounds of which move men to tears and ecstasy. وہ چیز جس کو فنی اصطلاح میں ساؤنڈ آرٹ کہا جاتا ہے ، وہ قرآن کی زبان میں بدرجہ کمال پایا جاتا ہے ۔ ایک قاری جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کا صوتی آہنگ اتنا شاندار ہوتا ہے کہ نہ سمجھنے والے لوگ بھی اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں ۔

ساؤنڈ آرٹ یا صوتی آہنگ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ذوقی چیز ہے۔ اس کے بعض ظاہری پہلوؤں کو اشاراتی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے مگر اس کی مکمل لفظی تشریح ممکن نہیں۔ یہاں اس کی وضاحت کے لیے ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے۔ قرآن کی ایک آیت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيِّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ کثیر (آل عمران (۱۴۶) اس آیت میں ربيون کی جگہ ربانیون بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ دونوں کے معنی بالکل ایک ہیں۔ لیکن اگر اس آیت میں موجودہ لفظ بدل کر رُبانيون رکھ دیا جائے تو آیت کا سارا صوتی آہنگ بگڑ جائے گا۔ یہی ہم آہنگ نغمگی پورے قرآن میں اپنے کمال درجہ میں پائی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page