اسلام میں عدل اجتماعی
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵
اسلام میں عدل اجتماعی
رانچی (بہار) کے لاکالج میں ۳۱ دسمبر ۱۹۹۱ء کو مسٹر جسٹس ستیشور رائے کی زیر صدارت تعلیم یافتہ افراد کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں میں نے خطاب کیا۔ خطاب کا موضوع تھا : اجتماعی عدل اسلام میں ذیل میں اس کو کسی قدر اضافے کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ (Social justice in Islam) سوشل جسٹس کا مطلب سادہ طور پر سب کے لیے انصاف (justice to all) ہے۔ اسلام سے پہلے انسانی سماج میں اس قسم کا مساویانہ انصاف نظری اور عملی دونوں اعتبار سے تقریباً معدوم تھا۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار مساویانہ انصاف کو قائم کیا۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا اعتراف خود غیر مسلم مفکرین نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر سوامی ویویکانند (۱۹۰۲-۱۸۶۳) نے اپنے خطوط (Letters) میں کہا ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب انسانی برابری تک قابل لحاظ درجہ میں پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے : If ever any religion approached to this equality in any appreciable manner, it is Islam and Islam alone. (p.379)
اس معاملے میں اسلام کا جو حصہ (contribution) ہے، وہ ایک نہایت تفصیلی کتاب کا طالب ہے۔ تاہم اصولی طور پر اس کو تین باب میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ انسانی برابری اور مساوی انصاف کے حق میں ایک مکمل نظریہ (ideology) پیش کرنا۔ اس قسم کا ایک نظریہ انتہائی ضروری ہے۔ نیز اس نظریہ کو لازمی طور پر حقیقی بھی ہونا چاہیے۔ اسلام نے اس سلسلہ میں جو نظریہ پیش کیا ہے اس میں یہ دونوں صفتیں پوری پائی جاتی ہیں۔
۲۔ اس نظریہ کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کے لیے ایک طاقتور محرک (incentive) دینا۔ یہ محرک اتنا گہرا ہونا چاہیے کہ وہ مساوات برتنے اور سماجی انصاف کرنے کو ہر آدمی کا ذاتی مسئلہ بنا دے۔ اس کے بعد ہر آدمی خود اپنی فلاح کے لیے اس کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ۳۔ ہر شعبہ حیات میں برابری اور مساوی انصاف کا ایک حقیقی نمونہ (example) قائم کرنا۔ اگر ایسا نمونہ واقعہ میں موجود نہ ہو تو لوگ برابری کے سلوک کی بات کو صرف ایک خیالی چیز سمجھیں گے،
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues