Al-Risala · January 1994 · page 16

مساوی انصاف کا نظریہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶

وہ اس کو قابل عمل سمجھنے پر کبھی آمادہ نہ ہوں گے۔

مساوی انصاف کا نظریہ

قدیم ترین زمانے سے اونچ نیچ کے نظریات ہر جگہ پائے جاتے رہے ہیں۔ اور اس بنا پر ہر دور میں سماجی نا انصافی کا عمل بھی جاری رہا ہے۔ قدیم زمانہ کا کوئی بھی دور اس سے خالی نظر نہیں آتا۔ یہ ایسا کلیہ ہے جس میں معلوم تاریخ کے مطابق، کوئی استثنا نہیں۔

قدیم یونان مفکرین اور مصلحین کی پیدائش کے لیے مشہور ہے۔ مگر قدیم یونان کے مشہور فلسفی ارسطو کا خیال تھا کہ کچھ لوگ پیدائشی طور پر غلام (natural slaves) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر چہ بعض مفکرین نے اس سے اختلاف کیا۔ تاہم ان کا اختلاف بے اثر ثابت ہوا۔ اور غلامی عملی طور پر یونان اور روم میں وسیع پیمانہ پر مسلسل جاری رہی:

یہی حال قدیم زمانہ میں ساری دنیا کا رہا ہے۔ انڈیا میں ہزاروں برس سے یہ نظام قائم تھا کہ کچھ لوگ اونچی ذات والے ہیں اور کچھ لوگ نیچی ذات والے۔ اونچی ذات والوں کو حق تھا کہ وہ نیچی ذات والوں کے ساتھ ہر قسم کا غیر مساوی سلوک کریں۔ بھارتی فکر میں یہ غیر مساوی تصور اتنا راسخ ہے کہ موجودہ زمانہ میں نئے قوانین بنائے جانے کے باوجود یہ تفریق نہ عملی طور پر ختم ہوسکی اور نہ فکری طور پر۔ یورپ کے لوگوں نے دیکھا کہ وہ سفید فام ہیں اور افریقہ کے لوگ سیاہ فام۔ انھوں نے یہ فرض کر لیا کہ سفید لوگ پیدائشی طور پر اونچے لوگ ہیں اور سیاہ فام لوگ پیدائشی طور پر نیچے لوگ۔ سفید فام کو جائز طور پر یہ حق ہے کہ وہ سیاہ فام کو غلام بنائے اور ان سے اپنی خدمت لے۔

افریقہ کو سیاہ بر اعظم (dark continent) قرار دیا گیا۔ جغرافی ذرائع اور انسانی صلاحیت کے اعتبار سے افریقہ کہاں طور پر ایک قیمتی زمینی خطہ تھا۔ مگر یہاں کے لوگوں کی جلد کا رنگ چونکہ سیاہ تھا، وہ پیدائشی طور پر کمتر مان لیے گئے۔ پندرہویں صدی عیسوی میں یورپ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page