Al-Risala · March 1994 · page 41

قرآن کا کرشمہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱

قرآن آدمی کو صرف داعی بننے کی نصیحت نہیں کرتا۔ وہ قرآن کی صورت میں آدمی کو ایسا دعوتی ہتھیار دیتا ہے جس کی تیزیی طاقت کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مسٹر سنیل گوپال چندرا سامنتا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو ہیں۔ وہ ایک تجارتی سفر کے تحت احمد آباد سے دہلی آئے اور ۱۲ جون ۱۹۹۱ کو راقم الحروف سے ملے :

Sunil Gopal Samanta, M.B.A., LL.M. 64, Arihant Society, Ahmedabad 300007, Tel. 414281 انھوں نے کہا کہ میں نے قرآن کو ہندی ترجمہ کی مدد سے پڑھا ہے۔ اس کتاب نے میرے اوپر بہت اثر ڈالا۔ اس کو پڑھتے ہوئے دل ہل جاتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان سے قرآن اور اسلام کے بعض پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ آخر میں انھیں ہندی الرسالہ اور ” انسان اپنے آپ کو پہچان “ کا ہندی ترجمہ دیا گیا۔

ایک عام مسلمان جو قرآن کو صرف ” تلاوت “ کی کتاب سمجھتا ہے ، اس کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ قرآن کتنی زلزلہ خیز کتاب ہے ، اور جو شخص اس کو سمجھ کر پڑھتا ہے ، اس کو یہ کتاب کس طرح ہلا دیتی ہے۔ مشرق اور مغرب میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں ان کے حالات خاص طور پر پڑھتا ہوں۔ میں نے پایا ہے کہ ان میں سے اکثر کے لیے قرآن کا مطالعہ اسلام کی طرف لانے کا سبب بنا۔

شاہ عبدالقادر صاحب (۱۳۱۴-۱۸۱۴ء) نے اپنے ترجمہ ” موضح القرآن “ کے مقدمہ میں اس بارہ میں اپنے مخصوص سادہ انداز میں جو کچھ لکھا ہے وہ یہاں نقل کرنے کے قابل ہے۔ وہ لکھتے ہیں: بتلنے والے بہتر بتائیں ، جیسا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپ بتایا ہے ، ویسا کوئی نہیں بتا سکتا۔ اور جیسا اثر اور راہ پانا خدا کے کلام میں ہے ، کسی کلام میں نہیں۔

مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ قرآن کے پیغام کو تمام دنیا کی قوموں تک پہنچائیں۔ اس پیغام رسانی کی مؤثر ترین عملی صورت یہ ہے کہ قرآن کا صحیح اور مستند ترجمہ تمام زبانوں میں کیا جائے اور اس کو چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلایا جائے۔ خدا منتظر ہے کہ اس کا پیغام اس کے تمام بندوں تک پہنچایا جائے ۔ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں وہ بلاشبہ اپنے رب کے یہاں سب سے بڑے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page