Al-Risala · March 1994 · page 42

ناقابل اعتبار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۲

ناقابل اعتبار

تورن (Turin) اٹلی کا ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں کے بڑے مسیحی چرچ (Cathedral) میں ۱۹۰۷ء سے ایک مقدس کپڑا رکھا ہوا ہے۔ یہ ایک پرانا کھدر کا کپڑا ہے۔ اس کے اوپر عکس کے انداز میں ایک انسانی خاکہ (image) نظر آتا ہے۔ اس کو عام طور پر تورن کا کفن (Shroud of Turin) کہا جاتا ہے۔ یعنی حضرت مسیح کا کفن۔

۱۹۰۲ء میں بیالوجی کے دو مسیحی پروفیسرا کی تحقیق کے لیے مقر کیے گئے تھے۔ انھوں نے تحقیق کے بعد رپورٹ دی تھی کہ کفن کے اوپر جو تصویری خاکہ ہے وہ رنگا ہوا نہیں ہے بلکہ حقیقۃً وہ انسانی جسم کا نقش ہے اور یہ کہ یہ نقش حضرت مسیح کے جسم کا ہے : After studying this evidence, two professors of biology presented to the Academie des Sciences in 1902 their conclusions: that the image on the shroud is not a painting, that it is actually the imprint of a human body, and that the image is that of Jesus Christ. (IX/172)

موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے اس کپڑے (مزعومہ کفن مسیح) کو تحقیق کا موضوع بنایا۔ کئی سالوں کی سائنسی ریسرچ کے بعد آخر کار ثابت ہو گیا کہ یہ فرضی کفن ہے نہ کہ حقیقی کفن۔ یہ کپڑا اگر حقیقی کفن ہوتا تو اس کی عمر دو ہزار سال ہونی چاہیے تھی۔ مگر کاربن ڈیٹینگ کے ذریعہ جانچ سے معلوم ہوا کہ اس کی عمر صرف چند سو سال ہے۔

روم کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ٹائم آئ آف انڈیا کے شمارہ ۴ جنوری ۱۹۹۱ (صفحہ ۴) میں اس کی بابت ایک خبر شائع ہوئی ہے۔ یہ پوری خبر ذیل میں درج کی جاتی ہے : Shroud of Turin Loses Credibility The Holy Shroud of Turin, regarded by the Roman Catholic Church as having been used to cover the body of Christ after his death, is in danger of losing its historical credibility. The scientists have recently reached new conclusions on the age of the shroud which differs widely from that reached earlier in 1988. These new theories are explained in two books recently published in Italy, The Shroud and Enigma to Test Science by Orazio Petrosiloo and Emanuela Marinelli and Shroud or Not by Pier Lugi Baina Bollone.

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page