ناقابل اعتبار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳
تورن کا مقدس کفن جس کے متعلق رومن کیتھولک چرچ کا خیال تھا کہ یہ وہ کپڑا ہے جو حضرت مسیح کی موت کے بعد ان کے جسم کو ڈھانکے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اس کو یہ خطرہ درپیش ہے کہ وہ اپنے حق میں تاریخی اعتبار یت کھو دے۔ حال میں سائنس رداں اس کفن کی عمر کے بارہ میں نئے نتائج تک پہنچے ہیں۔ یہ نتائج اس سے بہت زیادہ مختلف ہیں جہاں وہ ۱۹۸۸ میں پہنچے تھے ۔ یہ نئے نظریات دو نئی کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں جو حال میں اٹلی میں شائع ہوئی ہیں ۔ پچھلے سیکڑوں سال سے مسیحی چرچ کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ وہ کپڑا ہے جس میں مصلوب ہونے کے بعد حضرت مسیح کا جسم رکھا گیا تھا۔ آپ کے جسم کا عکس اس کپڑے میں آگیا۔ ۱۸۹۸ء میں اس کا پہلا فوٹو لیا گیا۔ اس فوٹو کو بغور دیکھا گیا تو لوگوں کو یہاں تک نظر آگیا کہ (نعوذ باللہ) صليب دیتے ہوئے آپ کے جسم پر جو کیلیں ٹھونکی گئی تھیں ، ان کا نشان بھی مفروضہ کفن میں موجود ہے۔ مگر بعد کی زیادہ معتبر سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ سارا عقیدہ محض فرضی تھا۔ جس کپڑے کو حضرت مسیح کا کفن سمجھ لیا گیا تھا، وہ حضرت مسیح کا کفن نہ تھا۔ بلکہ حضرت مسیح کے رفع کے ہزار سال بعد کسی شخص نے ایک کپڑا لے کر اس کو خاص انداز میں رنگا اور یہ مشہور کر دیا کہ یہ حضرت مسیح کا کفن ہے۔
دوسرے مذاہب کے بہت سے عقائد اسی طرح موجودہ سائنسی تحقیقات کی روشنی میں غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ مگر اسلام حیرت انگیز طور اس سے مستثنیٰ ہے۔ ہر قسم کی جانچ کے باوجود اسلام کی کوئی بات غیر معتبر ثابت نہ ہوسکی، یہ اس بات کا ایک علمی ثبوت ہے کہ اسلام ایک غیر محرف مذہب ہے ، اور دوسرے تمام ادیان محرف مذہب ۔
مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیٰ کے زمانہ کے فرعون کا ذکر ہے اور اس کی سرکشی پر اس کی غرقابی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ آج ہم تمہارے بدن کو محفوظ کر دیں گے تاکہ وہ باقی رہے اور آئندہ آنے والوں کے لیے نصیحت بنے (یونس ۹۲) قرآن میں جب یہ آیت اتری ، اس وقت یہ حقیقت سراسر غیر معلوم تھی۔ مگر انیسویں صدی کے آخر میں یہ دریافت ہوا کہ مصر کے اہرام کے اندر اس فرعون کی مومیائی کی ہوئی لاش موجود ہے۔ چنانچہ اس پر کاربن ڈیٹنگ کا عمل کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں غرق ہوا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues