Al-Risala · March 1994 · page 45

قرآن محافظ ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵

قرآن خاص طور پر دو طرح سے اہل ایمان کا محافظ بنتا ہے ۔ ایک یہ کہ وہ اہل ایمان کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا کرتا ہے۔ ان کو ذمہ دار اور با اخلاق زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ وہ ہر انسان کے خیر خواہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہر انسان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے ہیں۔ ضد اور تعصب اور نفرت اور سرکشی جیسے جذبات سے ان کا سینہ پاک ہو جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو دینے والے بن جاتے ہیں تاکہ خدا انہیں دے۔ وہ لوگوں سے درگزر کرنے لگتے ہیں تاکہ آخرت میں ان کا خدا ان سے درگزر کا معاملہ فرمائے۔

یہ اوصاف جن افراد کے اندر پیدا ہو جائیں وہ اپنے سماج کے اندر محبوب بن جاتے ہیں۔ ہر ایک کے دل میں ایسے لوگوں کی عزت بیٹھ جاتی ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے آپ سے بلند دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اور جو لوگ اخلاقی اعتبار سے دوسروں سے بلند ہو جائیں، وہ کبھی دوسروں کے ظلم کا شکار نہیں ہو سکتے۔

قرآن کی حفاظت کا دوسرا ذریعہ وہ ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ اہل ایمان جب قرآن کو دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو دوسروں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ قرآن تو ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ یہ تو ان کی اپنی چیز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں قرآن پر ایمان لانے لگتے ہیں۔ لوگ جوق در جوق قرآن کے دین کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو سماجی طاقت کا وزن اپنے آپ اہل ایمان کے حق میں چلا جاتا ہے۔ دین حق کا پھیلاؤ اہل ایمان کے لیے حفاظت کی مضبوط ڈھال بن جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ اس نے تاریخ انسانی میں ایک عظیم انقلاب پیدا فرما دیا۔ یہ انقلاب دور اول کے مسلمانوں کے ہاتھوں ظہور میں آیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ تمام اسباب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے جو قدیم زمانہ میں کسی آسمانی کتاب کو غیر محفوظ بنا دیتے تھے۔ اب خود عالمی حالات قرآن کی حفاظت کے ضامن بن گئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کا مسلم ہو جانا۔ علمی اور تاریخی ذوق کا رواج ۔ جدید پریس کا ظہور ۔ سائنسی اور صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں توہماتی ذہن کا خاتمہ۔ اس قسم کے مختلف اسباب ہیں جنھوں نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے کہ قرآن کو کوئی غیر محفوظ کتاب بنا سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page