خدا سے ڈرو
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶
خدا سے ڈرو
قرآن ، جیسا کہ معلوم ہے ، ۲۳ سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے اترا۔ اس کا آغاز اقرا (پڑھ ) سے ہوا۔ پیغمبر کے واسطہ سے خدا انسان کو پڑھاتا رہا۔ وہ انسان کو اس کی زندگی کی تعبیر کے بارہ میں وہ تمام باتیں بتاتا رہا جس کو وہ خود سے نہیں جان سکتا تھا۔ اس طرح خدا کتاب ہدایت کے اجزاء بیجتا رہا۔ یہاں تک کہ خدائی منصوبہ کے مطابق جب کتاب پوری ہو گئی تو اس کی آخری آیت اتری۔ یہ ایک لمبی آیت ہے جو موجودہ قرآن میں سورہ مائدہ کی تیسری آیت کے طور پر شامل ہے۔ اس آیت کا ایک حصہ یہ ہے :
اليوم يئس الذين كفروا من دينكم آج منکرین تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ، پس فلا تخشوه و اخشون اليوم اكملت ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتي ورضيت لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر لكم الاسلام دينا (المائدہ ۳) اپنے انعام کو پورا کر دیا۔
اس آیت سے مسلمانوں نے اپنے لئے فخر کی غذا تو بہت لی ہے مگر اس سے انھوں نے سبق کی غذا نہیں لی۔ ہر مسلمان آپ کو یہ فخر کرتا ہوا ملے گا کہ ہمارا دین کامل ہے۔ مگر ایسے لوگ آپ کو نہیں ملیں گے جو اس سے اس سبق کو لینے کی کوشش کریں جو اس آیت میں ہمارے لئے رکھ دیا گیا ہے۔ "تم اب لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف خدا سے ڈرو" اس سے یہ تعین ہو رہا ہے کہ مسائل میں مسلمانوں کے سوچنے کا انداز کیا ہونا چاہئے۔ وہ یہ ہونا چاہئے کہ مسلمان اپنے مسائل و مشکلات میں انسان کی طرف نہ دیکھیں بلکہ خدا کی طرف دیکھیں۔
انسانوں کی طرف سے معاملہ پیش آئے تب بھی وہ خدا کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ وہ خدا کے ساتھ اپنے معاملہ کو درست کر کے سمجھیں کہ انسانوں کے ساتھ بھی ان کا معاملہ درست ہو جائے گا۔ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین چونکہ آخری دین ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اس حد تک محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے کہ کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔ مسلمان اگر اپنے دین پر قائم ہوں تو یہی ان کے استحکام کی یقینی ضمانت بن جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues