قرآن کی تاثیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۵۰
قرآن کی تاثیر
اے جے آر بری (A. J. Arberry) ایک انگریز مصنف ہے۔ اس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتا تھا۔ اس لیے وہ قرآن کو براہِ راست اس کی اصل زبان میں سمجھ سکتا تھا۔ آر بری نے لکھا ہے کہ جب بھی کسی کی زبان سے میں قرآن کو پڑھتے ہوئے سنتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں موسیقی کو سن رہا ہوں۔ قرآن کے رواں نغمہ میں مسلسل ایک قسم کے نقارہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ دل پر ضرب لگانے کی مانند ہے : Whenever I hear the Qur'an chanted, it is as though I am listening to music. Underneath the flowing melody there is sounding all the time the incessant beat of a drum. It is like the beating of my heart. قرآن خدا کا کلام ہے۔ اس میں نہ صرف معنوی اعتبار سے غیر معمولی عظمت ہے، بلکہ اس کے لفظی آہنگ میں بھی انتہائی غیر معمولی قسم کا ربانی نغمہ پایا جاتا ہے۔ آدمی سمجھے بغیر بھی قرآن کی آواز سے متاثر ہوتا ہے، اور اگر وہ قرآن کو سمجھتا بھی ہو تو قرآن کا سننا اس کے دل کو ہلا دے گا، وہ اس کی روح میں ایک قسم کے بھونچال کی کیفیت پیدا کر دے گا۔
تربیت و تزکیہ کے لیے رب سے زیادہ کامیاب وسیلہ بلاشبہ قرآن ہے۔ آدمی اگر قرآن کو پڑھے یا اس کی قرأت کو سنے تو وہ اس کے اندر چھپے ہوئے فطرت کے تاروں کو چھیڑتا ہے، وہ اس کو ان روحانی کیفیات سے آشنا کرنا ہے جو خدا کی نسبت سے بندہ کے اندر پیدا ہونا مطلوب ہیں۔ اسی کے ساتھ قرآن سب سے زیادہ مؤثر دعوتی کتاب ہے۔ اگر قرآن کے ایسے کیسٹ تیار کیے جائیں جن میں کسی اچھے قاری کی قرأت محفوظ کی گئی ہو، اور قرأت کے بعد اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ریکارڈ کیا گیا ہو، اور پھر اس کو جگہ جگہ سنایا جائے، تو وہ اسلام کی اشاعت کا نہایت کارگر ذریعہ ثابت ہوگا۔
قرآن تربیت بھی ہے اور دعوت بھی۔ قرآن زندگی کا رہنما بھی ہے اور ہر قسم کی برکت کا ذریعہ بھی۔ انسان جو کچھ چاہتا ہے، قرآن وہ سب کچھ ہے اور اسی کے ساتھ مزید بہت کچھ بھی۔ مسلمان اگر صرف قرآن کو پکڑ لیں تو وہ تنہا ان کے لیے ہر اعتبار سے کافی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues