Al-Risala · March 1994 · page 49

سائنس داں کی گواہی

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹

سر جیمز جینز کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ سر کے بال سیدھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قد سے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے : عنایت اللہ خاں، جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی خدا کے جلال سے لرزنے لگتی ہے۔ اور جب میں چرچ میں خدا کے سامنے جھک کر کہتا ہوں کہ تو بہت بڑا ہے، تو میری ہستی کا ہر ذرہ میرا ہنوا بن جاتا ہے۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے۔ دوسروں کی نسبت مجھ کو عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے۔ کہو عنایت اللہ، کی تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں چرچ کیوں جاتا ہوں۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا۔ میں نے ان سے کہا کہ جناب والا، میں آپ کی روح افروز تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت مجھے یاد آگئی۔ اگر اجازت ہو تو اس کو پیش کروں۔ انہوں نے کہا کہ ضرور۔ اس کے بعد میں نے یہ آیت پڑھی :

ومن الجبال جدد بيض وحمر مختلف اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے الوانها وغرابيب سود۔ ومن الناس ٹکڑے ہیں، اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح والدواب والانعام مختلف الوانه انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف كذلك إنما يخشي الله من عباده رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے العلماء (فاطر ۲۷۔ ۲۸) صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

اس آیت کو پڑھنے کے بعد علامہ مشرقی نے اس کا انگریزی ترجمہ انھیں سنایا۔ اس کو سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے: کیا کہا۔ اللہ سے صرف علم والے لوگ ڈرتے ہیں، حیرت انگیز بہت عجیب۔ یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ ومشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمد کو کس نے بتائی۔ کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے۔ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمد ان پڑھ تھے۔ ان کو یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی۔ ان کو یقیناً اللہ نے یہ بات بتائی۔ بہت خوب، بہت عجیب۔ علم میں اضافہ اللہ کی معرفت میں اضافہ کرتا ہے۔ آدمی کا علم جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ اللہ پر اس کا یقین بڑھتا چلا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page