Al-Risala · April 1994 · page 56

قومیت کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۵۶

قومیت کا مسئلہ

۱۹۹۲ کا سال میرا ملاقاتوں کا سال رہا ہے۔ اس دوران میں نے ملک کے مختلف حصوں کے سفر کیے۔ بہت سے اجتماعات میں شرکت کی۔ کثرت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ میں نے پایا کہا بیشتر لوگ ملک کے مستقبل کے بارہ میں ناامید ہیں۔ مگر مجھے ایسے لوگوں سے اتفاق نہیں۔ اب بھی میں انڈیا کے مستقبل کے بارہ میں پوری طرح پرامید ہوں۔

میرا عقیدہ ہے کہ ناامیدی فطرت کے نظام کے خلاف ہے۔ اور جو چیز فطرت کے نظام کے خلاف ہو وہ کبھی قابل لحاظ نہیں ہو سکتی۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ ہماری دنیا میں ہر شام کے بعد صبح آتی ہے۔ یہ نظام اتنا زیادہ محکم ہے کہ اس کی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ حتی کہ ایک فلکیات داں اس پوزیشن میں ہے کہ ہزار سال بعد آنے والی صبح کا وقت وہ آج ہی ٹھیک ٹھیک بتا سکے۔ پھر جس دنیا میں ہر ۲۴ گھنٹہ کے اندر شام کے بعد صبح کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، کیسے ممکن ہے کہ وہاں ناامیدی کے اندھیرے کے بعد امید کا اجالا ظاہر نہ ہو۔

یہاں میں ایک مثال دوں گا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی تو کئی اخباروں نے لکھا کہ اب مسجدوں کے انہدام کا وہ طویل سلسلہ شروع ہو گیا جس کے لیے عرصہ سے ۳۰۰ یا ۳۰۰۰ ہزار مسجدوں کی فہرست پیش کی جارہی تھی۔ مگر میرا تاثر اس کے بالکل برعکس تھا۔ میں نے کہ کہ نہیں اب کوئی اور مسجد نہیں ٹوٹے گی۔ اب ہمارے ملک سے ”ایفٹی مسجد“ سیاست ختم ہو گئی۔ لوگ ۶ دسمبر کو آغاز سمجھ رہے تھے۔ مگر میں نے کہا کہ نہیں، یہ اختتام ہے۔

اپنے اسی یقین کو ایک فارمولا کی صورت دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ”مسلمان ایک پر چپ ہو جائیں اور ہند و ایک کے بعد پر چپ ہو جائیں“ ابتدا میں بہت سے لوگوں کو یہ فارمولا عجیب معلوم ہوا تھا۔ مگر آج دیکھئے تو دونوں فرقے بلا اعلان اسی اصول پر قائم ہو چکے ہیں۔ ۶ دسمبر کے بعد مسلمان ایک مسجد پر چپ ہو چکے ہیں اور ہندو ایک کے بعد کی مسجدوں پر چپ ہو چکے ہیں۔ اگر چہ بظاہر دونوں طرف کے کچھ غیر اہم افراد کبھی کبھی سابقہ بولی بولتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ مگر یہ بدترین قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) ہے جو کبھی دیر تک چلنے والی نہیں۔

ماه نامه اپریل ۱۹۹۳ء

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page